غزل

सैर के क़ाबिल है दिल-सद-पारा उस नख़चीर का

सैर के क़ाबिल है दिल-सद-पारा उस नख़चीर का
میر تقی میر· Ghazal· 12 shers

یہ غزل ایک خاص 'نخچیر' کی خوبصورتی بیان کرتی ہے جو دل میں بسی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ یہ نقشہ اتنا دلکش ہے کہ اس کے ہر ٹکڑے میں ایک تیر کی طرح گہرا احساس موجود ہے۔ یہ ایک ایسا پراسرار اور دلکش تجربہ ہے جسے دنیا کے کھلے باغات بھی سمجھ نہیں سکتے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
सैर के क़ाबिल है दिल-सद-पारा उस नख़चीर का जिस के हर टुकड़े में हो पैवस्त पैकाँ तीर का
سیر کے قابل ہے دل صد پارہ اس نخچیر کا جس کے ہر ٹکڑے میں ہو پیوست پیکاں تیر کا
دل-صد-پارہ اس نقشِ چِراغ کا سیر کے قابل ہے، جس کے ہر ٹکڑے میں پکا تیر کا نشان ہو۔
2
सब खुला बाग़-ए-जहाँ इल्ला ये हैरान-ओ-ख़फ़ा जिस को दिल समझे थे हम सो ग़ुंचा था तस्वीर का
سب کھلا باغ جہاں الا یہ حیران و خفا جس کو دل سمجھے تھے ہم سو غنچہ تھا تصویر کا
سارا باغِ جہاں کھلا ہے، بس یہ حیران اور خفا دل، جسے ہم نے دل سمجھا تھا، وہ تو بس تصویر کا ایک گچھا تھا۔
3
बू-ए-ख़ूँ से जी रुका जाता है ऐ बाद-ए-बहार हो गया है चाक दिल शायद कसो दिल-गीर का
بوئے خوں سے جی رکا جاتا ہے اے باد بہار ہو گیا ہے چاک دل شاید کسو دلگیر کا
بو-ئے خون سے جی رُکا جاتا ہے اے بادلِ بہار، ہو گیا ہے چاک دل شاید کسو دلگیر کا
4
क्यूँके नक़्काश-ए-अज़ल ने नक़्श अबरू का किया काम है इक तेरे मुँह पर खींचना शमशीर का
کیونکے نقاش ازل نے نقش ابرو کا کیا کام ہے اک تیرے منہ پر کھینچنا شمشیر کا
کیونکہ نقاشِ ازل نے نقشِ ابرو کا کیا۔ کام ہے اک تیرے منہ پر کھینچنا شمشیر کا।
5
रहगुज़र सैल-ए-हवादिस का है बे-बुनियाद-ए-दहर इस ख़राबे में न करना क़स्द तुम ता'मीर का
رہ گزر سیل حوادث کا ہے بے بنیاد دہر اس خرابے میں نہ کرنا قصد تم تعمیر کا
یہ راستہ واقعات کے سیلاب کا ہے، جو زمانے میں بے بنیاد ہے؛ اس خرابی میں تم تعمیر کا ارادہ نہ کرو۔
6
बस तबीब उठ जा मिरी बालीं से मत दे दर्द-ए-सर काम याँ आख़िर हुआ अब फ़ाएदा तदबीर का
بس طبیب اٹھ جا مری بالیں سے مت دے درد سر کام یاں آخر ہوا اب فائدہ تدبیر کا
بس طبیب اٹھ جا میری بالیاں سے مت دے دردِ سر۔ کام یاں آخر ہوا اب فائدہ تدبیر کا۔
7
नाला-कश हैं अहद-ए-पीरी में भी तेरे दर पे हम क़द्द-ए-ख़म-गश्ता हमारा हल्क़ा है ज़ंजीर का
نالہ کش ہیں عہد پیری میں بھی تیرے در پہ ہم قد خم گشتہ ہمارا حلقہ ہے زنجیر کا
तेरे दर पे हम ऐसे ہیں، جیسے نالہ-کش ہیں तेरी पवित्रता के عہد میں بھی؛ ہمارا قدّہ ایک ہار ہے، جو زنجیروں کے حلقے میں بندھا ہے۔
8
जो तिरे कूचे में आया फिर वहीं गाड़ा उसे तिश्ना-ए-ख़ूँ में तो हूँ उस ख़ाक-ए-दामन-गीर का
جو ترے کوچے میں آیا پھر وہیں گاڑا اسے تشنۂ خوں میں تو ہوں اس خاک دامن گیر کا
جس نے تیرے صحن میں قدم رکھا، میں نے اپنا دل وہیں بسایا ہے؛ کیونکہ تیرے دامن کی خاک ہی خون کے پیاسی ہے۔
9
ख़ून से मेरे हुई यक-दम ख़ुशी तुम को तो लेक मुफ़्त में जाता रहा जी एक बे-तक़सीर का
خون سے میرے ہوئی یک دم خوشی تم کو تو لیک مفت میں جاتا رہا جی ایک بے تقصیر کا
میرے خون سے مجھے اتنی خوشی ہوئی، تم کو لے جاتے ہوئے، کہ میرا دل بغیر کسی پیمانے یا فکر کے بہتا رہا۔
10
लख़्त-ए-दिल से जूँ छिड़ी फूलों की गूंधी है वले फ़ाएदा कुछ ऐ जिगर इस आह-ए-बे-तासीर का
لخت دل سے جوں چھڑی پھولوں کی گوندھی ہے ولے فائدہ کچھ اے جگر اس آہ بے تاثیر کا
دل کے زخم سے پھولوں کا گچھا نکلا ہے، اے جگر، اس بے تاثیر آہ کا کیا فائدہ؟
11
गोर-ए-मजनूं से न जावेंगे कहीं हम बे-नवा ऐब है हम में जो छोड़ें ढेर अपने पीर का
گور مجنوں سے نہ جاویں گے کہیں ہم بے نوا عیب ہے ہم میں جو چھوڑیں ڈھیر اپنے پیر کا
ہم کہیں سے محبوب مجنوں کے نہیں جائیں گے، کیونکہ ہم میں ایسی خامی ہے کہ اپنے پیر کا بہت کچھ چھوڑ دیتے ہیں۔
12
किस तरह से मानिए यारो कि ये आशिक़ नहीं रंग उड़ा जाता है टक चेहरा तो देखो 'मीर' का
کس طرح سے مانیے یارو کہ یہ عاشق نہیں رنگ اڑا جاتا ہے ٹک چہرہ تو دیکھو میرؔ کا
یاروں، تم کیسے مانو گے کہ میں عاشق نہیں ہوں؟ میرے چہرے کا رنگ دیکھو، 'میر' کا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.