क्यूँके नक़्काश-ए-अज़ल ने नक़्श अबरू का किया
काम है इक तेरे मुँह पर खींचना शमशीर का
“Why did the artisan of eternity not carve the mark of the eyebrow? / It is a task to draw the scabbard of a sword upon your face.”
— میر تقی میر
معنی
کیونکہ نقاشِ ازل نے نقشِ ابرو کا کیا۔ کام ہے اک تیرے منہ پر کھینچنا شمشیر کا।
تشریح
یہ شعر ایک لازوال اور مقدر کے کھیل کو بیان کرتا ہے۔ اگر خالقِ کائنات نے حسن کا نقشہ بنایا ہے، تو عاشق کا کام صرف اس پر اپنی محبت کی تلوار چلانا ہے۔ یہ عشق کی وہ مجبوریت ہے جو خاموشی اور درد میں لپٹی ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
