غزل

कहीं पहुँचो भी मुझ बे-पा-ओ-सर तक

कहीं पहुँचो भी मुझ बे-पा-ओ-सर तक
میر تقی میر· Ghazal· 11 shers

یہ غزل محبت کی گہرائی اور اس کے تجربات کے تضاد کو بیان کرتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ وہ محبوب کے ہر گوشے تک پہنچنا چاہتا ہے، جہاں تک شمع جیسا داغ جگر تک پہنچا ہے۔ یہ غزل بتاتی ہے کہ جسے شب آگ سا دیکھا تھا، وہ صبح تک خاک ہی پایا، اور تیرے چہرے کا چاند جیسا ہونا شاید صرف رات تک کا ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
कहीं पहुँचो भी मुझ बे-पा-ओ-सर तक कि पहुँचा शम्अ-साँ दाग़ अब जिगर तक
کہیں پہنچو بھی مجھ بے پا و سر تک کہ پہنچا شمع ساں داغ اب جگر تک
کَہیں پُہنچو بھی مُجھ بے-پا-اُسر تَق، کہ پُہنچا شَمع-ساں داغ اب جِگر تَق۔
2
कुछ अपनी आँख में याँ का न आया ख़ज़फ़ से ले के देखा दर-ए-तर तक
کچھ اپنی آنکھ میں یاں کا نہ آیا خذف سے لے کے دیکھا در تر تک
کچھ اپنی آنکھ میں یاں کا نہ آیا، خزع سے لے کے دیکھا درِ بحر تک۔
3
जिसे शब आग सा देखा सुलगते उसे फिर ख़ाक ही पाया सहर तक
جسے شب آگ سا دیکھا سلگتے اسے پھر خاک ہی پایا سحر تک
جسے شب آگ سا جلتا ہوا دیکھا، اسے پھر خاک ہی پایا سحر تک
4
तिरा मुँह चाँद सा देखा है शायद कि अंजुम रहते हैं हर शब इधर तक
ترا منہ چاند سا دیکھا ہے شاید کہ انجم رہتے ہیں ہر شب ادھر تک
شاید آپ نے میرے چہرے کو چاند جیسا دیکھا ہو، جیسے کہ ہر رات ستارے یہاں مقیم ہوں۔
5
जब आया आह तब अपने ही सर पर गया ये हाथ कब उस की कमर तक
جب آیا آہ تب اپنے ہی سر پر گیا یہ ہاتھ کب اس کی کمر تک
جب آہ آئی تو وہ اپنے سر پر پڑی؛ یہ ہاتھ کب اُس کی کمر تک پہنچا۔
6
हम आवाज़ों को सैर अब की मुबारक पर-ओ-बाल अपने भी ऐसे थे पर तक
ہم آوازوں کو سیر اب کی مبارک پر و بال اپنے بھی ایسے تھے پر تک
شاعر کہتا ہے کہ شہر کی آوازیں اب گھومنے کے قابل ہیں، حالانکہ ان کے اپنے بال اور بالی بھی کبھی اتنے ہی تھے۔
7
खिंची क्या क्या ख़राबी ज़ेर-ए-दीवार वले आया न वो टक घर से दर तक
کھنچی کیا کیا خرابی زیر دیوار ولے آیا نہ وہ ٹک گھر سے در تک
دیوار کے نیچے کیا کیا خرابی کھینچی، وہ تو گھر سے در تک آیا، بلکہ دہلیز سے بھی نہیں آیا۔
8
गली तक तेरी लाया था हमें शौक़ कहाँ ताक़त कि अब फिर जाएँ घर तक
گلی تک تیری لایا تھا ہمیں شوق کہاں طاقت کہ اب پھر جائیں گھر تک
गली تک تیری لایا تھا ہمیں شوق، کہاں طاقت کہ اب پھر جائیں گھر تک۔ (اس کا مطلب ہے کہ ہمیں صرف گلی تک لانے میں ہی ہمارا شوق پورا ہو گیا، اب گھر تک جانے کی طاقت کہاں ہے۔)
9
यही दर्द-ए-जुदाई है जो इस शब तो आता है जिगर मिज़्गान-ए-तर तक
یہی درد جدائی ہے جو اس شب تو آتا ہے جگر مژگان تر تک
یہ جدائی کا درد ہے جو آج رات دل کے کنارے تک آتا ہے، یہ روح کے کمرے کے دہلیز تک پہنچتا ہے۔
10
दिखाई देंगे हम मय्यत के रंगों अगर रह जाएँगे जीते सहर तक
دکھائی دیں گے ہم میت کے رنگوں اگر رہ جائیں گے جیتے سحر تک
ہم مےت کے رنگوں میں دکھائی دیں گے، اگر رہ جائیں گے جیتے سحر تک۔
11
कहाँ फिर शोर शेवन जब गया 'मीर' ये हंगामा है इस ही नौहागर तक
کہاں پھر شور شیون جب گیا میرؔ یہ ہنگامہ ہے اس ہی نوحہ گر تک
کہاں پھر شور شَون جب گیا 'میر'، یہ ہنگامہ ہے اِس ہی نوحاگر تک۔ اس کا لفظی مطلب ہے کہ جب شون کا شور कहीं चला गया، تو یہ ہنگامہ صرف اسی غم کے گھر (نوحاگر) تک محدود ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.