ہم آوازوں کو سیر اب کی مبارک — میر تقی میر

ہم آوازوں کو سیر اب کی مبارک پر و بال اپنے بھی ایسے تھے پر تک

“The sounds of the city are a pleasant stroll now, Though our own hair and beard were once so much like them.”

— میر تقی میر

معنی

شاعر کہتا ہے کہ شہر کی آوازیں اب گھومنے کے قابل ہیں، حالانکہ ان کے اپنے بال اور بالی بھی کبھی اتنے ہی تھے۔

تشریح

یہ شعر زندگی میں آنے بدلتے ہوئے وقت کا اعتراف ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ اب آوازوں کا سفر مبارک ہے، مگر وہ اپنے ماضی کے شان و شوکت کو یاد کرتے ہیں، جو کبھی ان کے بالوں اور ریشم سے ظاہر ہوتا تھا، مگر اب وہ گزر چکا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.