غزل
दिल जो ज़ेर-ए-ग़ुबार अक्सर था
दिल जो ज़ेर-ए-ग़ुबार अक्सर था
یہ غزل اس دل کے بارے میں ہے جو اکثر دھول تلے دبا رہتا تھا، اور کیسے ایک بے چین مزاج نے زندگی کے ہر لمحے کو مقدر بنا دیا۔ شاعر کہتا ہے کہ جب آپ سے گزرے، تو یہ جہاں ہی آپ کا نظارہ تھا، اور آپ دل کی قدر کرتے رہے، چاہے وہ ہمارا نژدہ پرور تھا۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
दिल जो ज़ेर-ए-ग़ुबार अक्सर था
कुछ मिज़ाज इन दिनों मुकद्दर था
دل جو زیرِ غبار اکثر تھا، کچھ مزاج ان دنوں مقدر تھا۔
2
इस पे तकिया किया तो था लेकिन
रात-दिन हम थे और बिस्तर था
اگر میں اس پر تکیہ کیا تو تھا، لیکن رات-دن ہم تھے اور بستر بھی تھا۔
3
सरसरी तुम जहाँ से गुज़रे
वर्ना हर जा जहान-ए-दीगर था
جیسے آپ کے گزرنے سے یہ پوری دنیا ہی کوئی اور دنیا لگ رہی ہو۔
4
दिल की कुछ क़द्र करते रहियो तुम
ये हमारा भी नाज़-परवर था
دل کی کچھ قدر کرتے رہیو تم، یہ ہمارا بھی نازپرور تھا۔
5
बा'द यक 'उम्र जो हुआ मा'लूम
दिल उस आईना-रू का पत्थर था
ایک پوری زندگی گزر جانے کے بعد مجھے یہ معلوم ہوا کہ اس آئینہ جیسے شخص کا دل پتھر تھا۔
6
बारे सज्दा अदा किया तह-ए-तेग़
कब से ये बोझ मेरे सर पर था
پہلی لائن کا مطلب ہے کہ تم نے تلوار کی دھار پر کیا شاندار دکھاوا کیا ہے۔ دوسری لائن، 'کب سے یہ بوجھ میرے سر پر تھا'، یہ پوچھتی ہے کہ یہ بھاری ذمہ داری کب سے میرے سر پر رکھی گئی ہے۔
7
क्यूँ न अब्र-ए-सियह सफ़ेद हवा
जब तलक अहद-ए-दीदा-ए-तर था
کیوں نہ ابرِ سیہ سفید ہوا
جب تک عہدِ دیدۂ تر تھا
8
अब ख़राबा हुआ जहानाबाद
वर्ना हर इक क़दम पे याँ घर था
اب جہان آباد کھنڈر ہو گیا ہے، حالانکہ ہر قدم پر ایک گھر ہوا کرتا تھا۔
9
बे-ज़री का न कर गिला ग़ाफ़िल
रह तसल्ली कि यूँ मुक़द्दर था
بِزَری کا نہ کر گِلہ غافل، رہ تسلی کہ یوں مُقدّر تھا۔
10
इतने मुनइ'म जहान में गुज़रे
वक़्त रेहलत के किस कने ज़र था
اس منعم جہاں میں وقت کس سفر سے گزرا؟
11
साहिब-ए-जाह-ओ-शौकत-ओ-इक़बाल
इक अज़ाँ जुमला अब सिकंदर था
شاعر کہہ رہے ہیں کہ صرف ایک اذان کی آواز سے سکندر کا دور آ گیا ہے۔
12
थी ये सब काएनात ज़ेर-ए-नगीं
साथ मोर-ओ-मलख़ सा लश्कर था
یہ سارا کائنات، نگی کے نیچے، مور اور ملکوں جیسے ایک لشکر تھا۔
13
लाल-ओ-याक़ूत हम ज़र-ओ-गौहर
चाहिए जिस क़दर मयस्सर था
लाल و یاقوت، ہم زر و گوہر، جتنا چاہیے تھا اتنا ہی میسر تھا۔
14
आख़िर-ए-कार जब जहाँ से गया
हाथ ख़ाली कफ़न से बाहर था
آخرِ کار جب جہاں سے گیا، ہاتھ خالی کفن سے باہر تھا۔
15
'ऐब तूल-ए-कलाम मत करियो
क्या करूँ मैं सुख़न से ख़ूगर था
ایب تُلّے کلام مت کریو، یعنی شاعری کی نکتہ چینی نہ کرو؛ میں کیا کروں؟ میں تو شیریں کلام سے مست تھا۔
16
ख़ुश रहा जब तलक रहा जीता
'मीर' मा'लूम है क़लंदर था
شاعر کہہ رہے ہیں کہ جب تک وہ زندہ تھا، وہ کتنا خوش تھا۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
