आख़िर-ए-कार जब जहाँ से गया
हाथ ख़ाली कफ़न से बाहर था
“When the end of life arrived and departed from the world, It was outside the shroud with empty hands.”
— میر تقی میر
معنی
آخرِ کار جب جہاں سے گیا، ہاتھ خالی کفن سے باہر تھا۔
تشریح
یہ شعر آخری وقت کی تنہائی کا منظر پیش کرتا ہے۔ شاعر کہہ رہے ہیں کہ جب یہ جہاں بھی چھوڑ جائے گا، تو ہاتھ کفن سے باہر ہوں گے۔ یہ ایک انتہائی گہرا اور دل کو چھو لینے والا تصور ہے جو زندگی کی بے ثباتی کو بیان کرتا ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
