غزل
मुआ मैं सज्दे में पर नक़्श मेरा बार रहा
मुआ मैं सज्दे में पर नक़्श मेरा बार रहा
یہ غزل ایک گہرے عشق اور جدائی کے جذبات کا اظہار کرتی ہے، جہاں شاعر اپنے محبوب کے نشان کو ہر جگہ محسوس کرتا ہے۔ شاعر خود کو محبوب کے آستانے پر دھول اور غبار کے طور پر دیکھتا ہے، اور اس محبت کا انتظار ایک دائمی، بجھنے نہ دینے والا جنون ہے۔
نغمہ سنیں
1
मुआ मैं सज्दे में पर नक़्श मेरा बार रहा
उस आस्ताँ पे मिरी ख़ाक से ग़ुबार रहा
موا میں سجدے میں پر نقش میرا بار رہا
اس آستاں پہ مری خاک سے غبار رہا
مُعَ میں سجدے میں پر نقش میرا بار رہا۔ اس آستانے پہ میری خاک سے غبار رہا۔
معنی: میرا نشان سجدے (نماز کی جگہ) پر شاید مٹ گیا ہو، مگر میری دھول اب بھی اس دہلیز پر ایک تہہ کے طور پر موجود ہے۔
2
जुनूँ में अब के मुझे अपने दिल का ग़म है पे हैफ़
ख़बर ली जब कि न जामे में एक तार रहा
جنوں میں اب کے مجھے اپنے دل کا غم ہے پہ حیف
خبر لی جب کہ نہ جامے میں ایک تار رہا
جنون میں اب کے مجھے اپنے دل کا غم ہے، اے محبوب، جب خبر لِھی کہ نغمہ میں ایک تار رہا۔
3
बशर है वो पे खुला जब से उस का दाम-ए-ज़ुल्फ़
सर-ए-रह उस के फ़रिश्ते ही का शिकार रहा
بشر ہے وہ پہ کھلا جب سے اس کا دام زلف
سر رہ اس کے فرشتے ہی کا شکار رہا
جب سے اس کے زُلفوں کا دامن کھلا ہے، اس کے سر پر صرف فرشتوں کا سایہ رہا ہے۔
4
कभू न आँखों में आया वो शोख़ ख़्वाब की तरह
तमाम-उम्र हमें उस का इंतिज़ार रहा
کبھو نہ آنکھوں میں آیا وہ شوخ خواب کی طرح
تمام عمر ہمیں اس کا انتظار رہا
وہ شخ خواب کبھی آنکھوں میں نہیں آیا، اور تمام عمر ہمیں اس کا انتظار رہا۔
5
शराब-ए-ऐश मयस्सर हुई जिसे इक शब
फिर उस को रोज़-ए-क़यामत तलक ख़ुमार रहा
شراب عیش میسر ہوئی جسے اک شب
پھر اس کو روز قیامت تلک خمار رہا
उसे एक रात ऐश की शराब میسر ہوئی، پھر وہ نشہ قیامت کے دن تک رہا۔
6
बुताँ के 'इश्क़ ने बे-इख़्तियार कर डाला
वो दिल कि जिस का ख़ुदाई में इख़्तियार रहा
بتاں کے عشق نے بے اختیار کر ڈالا
وہ دل کہ جس کا خدائی میں اختیار رہا
بُتاں کے عشق نے بے اختیار کر ڈالا، وہ دل کہ جس کا خداوندی میں اختیار رہا۔ اس کا لفظی مطلب ہے کہ بُتاں کے عشق نے مجھے بے اختیار کر دیا، وہ دل جس کا خداوندی میں انتخاب تھا۔
7
वो दिल कि शाम-ओ-सहर जैसे पक्का फोड़ा था
वो दिल कि जिस से हमेशा जिगर-फ़िगार रहा
وہ دل کہ شام و سحر جیسے پکا پھوڑا تھا
وہ دل کہ جس سے ہمیشہ جگر فگار رہا
وہ دل کہ شام و سحر جیسے پکا پھوڑا تھا، وہ دل کہ جس سے ہمیشہ جگر-فِگَر رہا۔
8
तमाम-उम्र गई उस पे हाथ रखते हमें
वो दर्दनाक अलर्रग़्म बे-क़रार रहा
تمام عمر گئی اس پہ ہاتھ رکھتے ہمیں
وہ دردناک علی الرغم بے قرار رہا
تمام عمر ہم نے اس پر ہاتھ رکھے، مگر وہ ایک دردناک، بے قرار معمہ بنی رہی۔
9
सितम में ग़म में सर-अंजाम उस का क्या कहिए
हज़ारों हसरतें थीं तिस पे जी को मार रहा
ستم میں غم میں سرانجام اس کا کیا کہیے
ہزاروں حسرتیں تھیں تس پہ جی کو مار رہا
ستم اور غم میں اس کا انجام کیا کہیں، کیونکہ ہزاروں حسرتیں ہی جاں کو مار رہی تھیں۔
10
बहा तो ख़ून हो आँखों की राह बह निकला
रहा जो सीना-ए-सोज़ाँ में दाग़दार रहा
بہا تو خون ہو آنکھوں کی راہ بہہ نکلا
رہا جو سینۂ سوزاں میں داغ دار رہا
آنسوؤں کے بہنے سے خون بہ نکلا، جو جلتے سینے میں داغدار رہا۔
11
सो उस को हम से फ़रामोश-कारियों ले गए
कि उस से क़तरा-ए-ख़ूँ भी न यादगार रहा
سو اس کو ہم سے فراموش کاریوں لے گئے
کہ اس سے قطرۂ خوں بھی نہ یادگار رہا
وہ اُس کو ہم سے فراموشکاریوں لے گئے کہ اُس سے قطرۂ خون بھی نہ یادگار رہا۔ اس کا مطلب ہے کہ انہوں نے ہم سے اُن لوگوں کو چھین لیا جو ہمیں بھول گئے تھے، اور اب ان سے ایک قطرہ خون بھی یادگار نہیں رہا۔
12
गली में उस की गया सो गया न बोला फिर
मैं 'मीर' 'मीर' कर उस को बहुत पुकार रहा
گلی میں اس کی گیا سو گیا نہ بولا پھر
میں میرؔ میرؔ کر اس کو بہت پکار رہا
گلی میں اس کی گیا سو گیا نہ بولا پھر میں 'میر' 'میر' کر اس کو بہت پکار رہا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
