غزل
जाँ-गुदाज़ इतनी कहाँ आवाज़-ए-ऊद-ओ-चंग है
जाँ-गुदाज़ इतनी कहाँ आवाज़-ए-ऊद-ओ-चंग है
یہ غزل عشق کی شدید اور دلکش موجودگی کو بیان کرتی ہے، جہاں شاعر اپنی محبوبہ کی وجود کو ایک جادوئی، موسیقی کے تجربے کے طور پر سمجھتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ صرف اس کی نگاہوں اور اس کے ہر انداز میں ایک ایسا جادو ہے جو کسی بھی موسیقی کے آلے سے کہیں زیادہ دلکش ہے۔ مجموعی طور پر، یہ عشق کی گہرائی اور اس کے گہرے اثر کی تعریف ہے۔
نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
जाँ-गुदाज़ इतनी कहाँ आवाज़-ए-ऊद-ओ-चंग है
दिल के से नालों का उन पर्दों में कुछ आहंग है
جان-گداز، اتنی کہاں آوازِ اُود و چنگ ہے। دل کے نالوں کے ان پردوں میں بھی کچھ آہنگ ہے۔
2
रू-ओ-ख़ाल-ओ-ज़ुल्फ़ ही हैं सुंबुल-ओ-सब्ज़ा-ओ-गुल
आँखें हूँ तो ये चमन आईना-ए-नैरंग है
رو او خال او زلف ہی ہیں سمنل او سبزہ او گل
آنکھیں ہوں تو یہ چمن آئینۂ نِیرنگ ہے
बाल، کَش اور زُلفیں خَجور کے درخت، ہریالی اور پھول کے مانند ہیں؛ اور میری آنکھیں ایک باغ ہیں، جو رنگین آئینے کی مانند ہیں۔
3
बे-सुतूँ खोदे से किया आख़िर हुए सब कार-ए-इश्क़
ब'अद-अज़ाँ ऐ कोहकन सर है तिरा और संग है
بے سُتوں کھو دے سے کیا آخِیر ہوئے سب کارےِ عشق؛ بَعدِ عزاں اے کوہکن سر ہے تیرا اور سنگ ہے
4
आह उन ख़ुश-क़ामतों को क्यूँके बर में लाइए
जिन के हाथों से क़यामत पर भी अर्सा-ए-तंग है
شاعر کہتا ہے کہ جن کے ہاتھوں میں قیامت کا بھی لمبا وقت ہے، ان خوش قامतों کو بارش میں کیوں لایا جائے।
5
इश्क़ में वो घर है अपना जिस में से मजनूँ ये एक
ना-ख़लफ़ सारे क़बीले का हमारे नंग है
عشق میں وہ گھر ہے اپنا جس میں سے مجنوں یہ ایک، نا-خلف سارے قبیلے کا ہمارے ننگ ہے۔ (یعنی، محبت میں ایک ایسا اپنا گھر ہے، جہاں سے مجنوں، جو تمام قبیلوں کا ننگ ہے، نکلا ہے۔)
6
चश्म-ए-कम से देख मत क़ुमरी तो उस ख़ुश-क़द को टक
आह भी सर्द गुलिस्ताँ शिकस्त-ए-रंग है
کمزور نظر سے چاند کو مت دیکھ؛ اس خوبصورت قامت کو ایک نظر بھی باغ میں رنگ کی شکست ہے۔
7
हम से तो जाया नहीं जाता कि यकसर दिल में वाँ
दो-क़दम उस की गली की राह सौ फ़रसंग है
ہم سے تو جا یا نہیں جاتا کہ یکثر دل میں وہ
دو قدم اُس کی گلی کی راہ سو فرنگ ہے۔
(یعنی، یہ ناممکن نہیں کہ دل میں صرف دو قدم کی دوری پر بھی وہ گلی ہے، جس کی راہ سو فرنگ دور ہے۔)
8
एक बोसे पर तो की है सुल्ह पर ऐ ज़ूद रंज
तुझ को मुझ को इतनी इतनी बात ऊपर जंग है
ایک بینچ پر تو کی ہے صلح، اے زُود رنج۔ تجھ کو مجھ کو اتنی اتنی بات پر اوپر جنگ ہے۔
9
पाँव में चोट आने के प्यारे बहाने जाने दे
पेश-रफ़्त आगे हमारे कब ये उज़्र लंग है
پاؤں میں چوٹ آنے کے پیارے بہانے جانے دے، کیونکہ ہمارے آگے بڑھنے کے لیے وہ کون سا عذر لا سکتے ہیں۔
10
फ़िक्र को नाज़ुक ख़यालों के कहाँ पहुँचे हैं यार
वर्ना हर मिस्रा यहाँ मा'शूक़ शोख़-ओ-शंग है
دوست، تو ان نازک خیالات کو کہاں لے گیا ہے؟ ورنہ یہاں ہر مصرع میں محبوب بہت شوخ و شنگ ہے۔
11
सरसरी कुछ सुन लिया फिर वाह-वा कर उठ गए
शे'र ये कम-फ़हम समझे हैं ख़याल बंग है
سرسری کچھ سن لیا پھر واہ وا کر اٹھ گئے؛ یہ شعر کم فہم سمجھیں ہیں خیال بنگ کا۔
12
सब्र भी करिए बला पर 'मीर'-साहिब जी कभू
जब न तब रोना ही कुढ़ना ये भी कोई ढंग है
بلا پر صبر بھی کیجیے، اے میر صاحب، کیونکہ جب وہ نہیں آئی ہے، تب رونا یا غم کرنا کوئی طریقہ نہیں۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
