غزل

फिर उस से तरह कुछ जो दा'वे की सी डाली है

फिर उस से तरह कुछ जो दा'वे की सी डाली है
میر تقی میر· Ghazal· 11 shers

نظم کا مفہوم یہ ہے کہ کسی سے ایسی چیز کی توقع نہ رکھیں جو صرف دکھاوے یا دعوے کی مانند ہو۔ زندگی میں کچھ سچا اور تازہ پانے کے لیے، ہمیں ایک قسم کی تیاری یا انتظام کرنا پڑا ہے۔ بالآخر، اشعار یہ جذبہ ظاہر کرتے ہیں کہ ظاہری تعریف یا آغوش سے زیادہ، ایک خالی اور سچی کیفیت زیادہ قیمتی ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
फिर उस से तरह कुछ जो दा'वे की सी डाली है क्या ताज़ा कोई गुल ने अब शाख़ निकाली है
پھر اس سے طرح کچھ جو دعوے کی سی ڈالی ہے کیا تازہ کوئی گل نے اب شاخ نکالی ہے
پھر اس سے طرح کچھ جو دا'ے کی سی ڈالی ہے، کیا تازہ کوئی گل نے اب شاخ نکالی ہے؟ اس کا مطلب ہے کہ جو دعوے پہلے کیے گئے تھے، کیا کوئی نیا پھول اب کوئی نئی شاخ لے کر آیا ہے۔
2
सच पूछो तो कब हैगा उस का सा दहन ग़ुंचा तस्कीं के लिए हम ने इक बात बना ली है
سچ پوچھو تو کب ہے گا اس کا سا دہن غنچہ تسکیں کے لیے ہم نے اک بات بنا لی ہے
سچ پوچھو تو کب ہو گا اُس کا سا دہن گنچہ؟ تصیّن کے لیے ہم نے اک بات بنا لی ہے۔
3
देही को न कुछ पूछो इक भरत का है गड़वा तरकीब से क्या कहिए साँचे में की ढाली है
دیہی کو نہ کچھ پوچھو اک بھرت کا ہے گڑوا ترکیب سے کیا کہیے سانچے میں کی ڈھالی ہے
جسم کے بارے میں کچھ مت پوچھو، یہ تو بھرت کا ایک ڈیزائن ہے؛ جب کسی شکل کو سانچے میں ڈھال دیا گیا ہو، تو اس کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے۔
4
हम क़द्द-ए-ख़मीदा से आग़ोश हुए सारे पर फ़ाएदा तुझ से तो आग़ोश वो ख़ाली है
ہم قد خمیدہ سے آغوش ہوئے سارے پر فائدہ تجھ سے تو آغوش وہ خالی ہے
ہم قدّے-ए-ख़میدہ سے تو آغوش ہوئے، پر تجھ سے ملنے والا آغوش تو بے کار ہے۔
5
इज़्ज़त की कोई सूरत दिखलाई नहीं देती चुप रहिए तो चश्मक है कुछ कहिए तो गाली है
عزت کی کوئی صورت دکھلائی نہیں دیتی چپ رہیے تو چشمک ہے کچھ کہیے تو گالی ہے
اس کا مطلب ہے کہ عزت کا کوئی سُراغ نظر نہیں آتا؛ اگر آپ خاموش رہتے ہیں تو آپ کو دیکھا جاتا ہے، اور اگر آپ بولتے ہیں تو یہ گالی کے برابر ہوتا ہے۔
6
दो-गाम के चलने में पामाल हुआ आलम कुछ सारी ख़ुदाई से वो चाल निराली है
دو گام کے چلنے میں پامال ہوا عالم کچھ ساری خدائی سے وہ چال نرالی ہے
دو گام کے چلنے میں پاگل ہوا عالم / کچھ ساری خدائی سے وہ چال نِیالی ہے
7
हैगी तो दो साला पर है दुख़्तर-ए-रज़ आफ़त क्या पीर-ए-मुग़ाँ ने भी इक छोकरी पाली है
ہے گی تو دو سالہ پر ہے دختر رز آفت کیا پیر مغاں نے بھی اک چھوکری پالی ہے
اگر وہ مقدر ہے، تو عاشق کا یہ دکھ ایک آفت ہے؛ کیا پیرِ مُگّاں نے بھی ایک چھوڑی پال رکھی ہے۔
8
ख़ूँ-रेज़ी में हम सों की जो ख़ाक बराबर हैं कब सर तो फ़रो लाया हिम्मत तिरी आली है
خوں ریزی میں ہم سوں کی جو خاک برابر ہیں کب سر تو فرو لایا ہمت تری عالی ہے
خون-ریزی میں ہم سوں کی جو خاک برابر ہیں، کب سر تو فرو لایا ہمت تیری عالی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ خون سے رچدی زمین میں ہم لوگ تمہارے لیے خاک کے برابر ہیں؛ اے پیاری بہن، تم کب وہ ہمت لے کر آؤ گی؟
9
जब सर चढ़े हों ऐसे तब इश्क़ करें सो भी जूँ तूँ ये बला सर से फ़रहाद ने टाली है
جب سر چڑھے ہوں ایسے تب عشق کریں سو بھی جوں توں یہ بلا سر سے فرہاد نے ٹالی ہے
جب سر چڑھے ہوں ایسے تب عشق کریں سو بھی۔ یوں توں یہ بلا سر سے فرہاد نے ٹالی ہے۔
10
इन मुग़्बचों में ज़ाहिद फिर सर ज़दा मत आना मिंदील तिरी अब के हम ने तो बचा ली है
ان مغبچوں میں زاہد پھر سر زدہ مت آنا مندیل تری اب کے ہم نے تو بچا لی ہے
ان مغبचों میں زاہد پھر سر زدا مت آنا، کیونکہ ہم نے تیری مندیل اب تو بچا لی ہے۔
11
क्या 'मीर' तू रोता है पामाली-ए-दिल ही को उन लौंडों ने तो दिल्ली सब सर पे उठा ली है
کیا میرؔ تو روتا ہے پامالیٔ دل ہی کو ان لونڈوں نے تو دلی سب سر پہ اٹھا لی ہے
اے میر، کیا تو صرف اپنے دل کی شرارت پر روتا ہے، جبکہ ان لڑکوں نے تو دہلی کو پوری طرح ہلا دیا ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.