Sukhan AI
غزل

रमक़ एक जान-ए-वबाल है कोई दम जो है तो अज़ाब है

रमक़ एक जान-ए-वबाल है कोई दम जो है तो अज़ाब है
میر تقی میر· Ghazal· 12 shers

یہ غزل کسی ایسے شخص کی عکاسی کرتی ہے جو اپنے وجود سے ہی ایک قسم کا عذاب یا چیلنج ہے۔ شاعر اپنے دل اور اپنے کلام کی شدت بیان کرتا ہے، جو محبت اور درد دونوں سے بھرا ہے۔ یہ نظم بتاتی ہے کہ شاعر کی باتیں یا موجودگی لوگوں کے لیے ایک پیچیدہ اور کبھی کبھی اذیت ناک تجربہ ہوتی ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
रमक़ एक जान-ए-वबाल है कोई दम जो है तो अज़ाब है दिल-ए-दाग़ गश्ता कबाब है जिगर गुदाख़ता आब है
رَمق ایک جانِ وِبال ہے کوئی، دَم جو ہے تو عَذاب ہے। دِلِ داغ گشتہ کباب ہے، جِگر گُداخطا آب ہے।
2
मिरी ख़ल्क़ महव-ए-कलाम सब मुझे छोड़ते हैं ख़मोश कब मिरा हर्फ़ रश्क-ए-किताब है मरी बात लिखने का बाब है
میری خلق محبّےِ کلام سے مجھے چھوڑتے ہیں خاموش کب؟ میرا حرف رشکِ کتاب ہے؛ میری بات لکھنا میرا باب ہے۔
3
जो वो लिखता कुछ भी तो नामा-बर कोई रहती मुँह में तिरे निहाँ तिरी ख़ामुशी से ये निकले है कि जवाब ख़त का जवाब है
اگر تم کچھ بھی لکھو گے تو میرا نام تمہارے ہونٹوں پر رہے گا، تمہارے گنہوں میں؛ تمہاری خاموشی سے یہ نکلا ہے کہ یہ ایک جواب کے جواب میں دیا گیا جواب ہے۔
4
रहे हाल दिल का जो एक सा तो रुजूअ' करते कहीं भला सो तू ये कभू हमा दाग़ है कभू नीम-सोज़ कबाब है
اگر دل کی حالت ایک جیسی رہے، تو یہ کہاں مڑ کر دیکھے گا؟ اے تو، جان لے کہ یہ کبھی ہمارا داغ ہے اور کبھی نیم کی جلن سے بنا کباب ہے۔
5
कहेंगे कहो तुम्हें लोग क्या यही आरसी यही तुम सदा कसो की तुम को है टक हया हमारे मुँह से हिजाब है
لوگ کہیں گے کہ تم کیا ہو؟ یہی آر سی، یہی تم سدا۔ نہ گھبرا کہ تم کو ہے ٹک حیا، نہ ہمارے منہ سے حجاب ہے۔
6
चलो मय-कदे में बसर करें कि रही है कुछ बरकत वहीं लब‌‌‌‌-ए-नाँतोवाँ का कबाब है दम-ए-आबवाँ का शराब है
چلو مے-کدے میں بسر کریں کہ رہی ہے کچھ برکت وہیں। لبے نانتوان کا کباب ہے، دمے آبوان کا شراب ہے۔ (مطلب: ہمیں محبت کے گھر میں وقت گزارنا چاہیے کیونکہ وہاں ابھی بھی کچھ برکت باقی ہے। محبوب کے ہونٹ کباب جیسے ہیں اور والدین کا نچوڑ (یا شراب) ہے۔)
7
नहीं खुलतीं आँखें तुम्हारी टक कि मआल पर भी नज़र करो ये जो वहम की सी नुमूद है उसे ख़ूब देखो तो ख़्वाब है
تیرے آنکھ نہیں کھلتی، تو اک بار مآل پر بھی نظر کر۔ یہ جو وہم جیسی نمائش ہے، اسے خوب دیکھ تو خواب ہے۔
8
गए वक़्त आते हैं हाथ कब हुए हैं गँवा के ख़राब सब तुझे करना होवे सो कर तू अब कि ये उम्र बरक़-ए-शित्ताब है
وقت گزر جاتا ہے، ہاتھ فضول میں کھو گئے؛ سب خراب ہے۔ جو تمہیں کرنا ہے، وہ اب کرو، کہ یہ عمر برقِ شتتاب کے آسمان جیسی ہے۔
9
कभू लुत्फ़ से सुख़न क्या कभू बात कह लगा लिया यही लहज़ा लहज़ा ख़िताब है वही लम्हा लम्हा 'ताब है
کبھی لطف سے نہ سُخن کیا، کبھی بات کہہ نہ لگا لیا، یہی لہجہ لہجہ خطاب ہے، وہی لمحہ لمحہ اِعتاب ہے۔
10
तू जहाँ के बहर-ए-अमीक़ में सर पर हुआ बुलंद कर कि ये पंज-रोज़ा जो बूद है कसो मौज-ए-पुर का हबाब है
تُو جہاں کے بحرِ عمیق میں سر پر ہوا نہ بلند کر، کہ یہ پنج روزا جو بود ہے کسو موجِ پرور کا حباب ہے۔
11
रखो आरज़ू मय-ए-ख़ाम की करो गुफ़्तुगू ख़त-ए-जाम की कि सियाह कारों से हश्र में हिसाब है किताब है
मय-ए-ख़ाम کے لیے اپنی آرزو برقرار رکھنا، اور جام کے خط پر گفتگو کرنا؛ کیونکہ سیاہ بالوں والوں کے ہاشر میں نہ حساب ہے اور نہ کتاب ہے۔
12
मिरा शोर सुन के जो लोगों ने किया पूछना तू कहे है क्या जिसे 'मीर' कहते हैं साहिबो ये वही तो ख़ाना-ख़राब है
جو لوگوں نے میرا شور سن کے مجھ سے پوچھا کہ میں کیا کہتی ہوں، تم پوچھو۔ صاحبوں، جسے تم 'میر' کہتے ہو، وہ تو وہی پرانا خانے خراب ہے۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

रमक़ एक जान-ए-वबाल है कोई दम जो है तो अज़ाब है | Sukhan AI