مرا شور سن کے جو لوگوں نے کیا پوچھنا تو کہے ہے کیا — میر تقی میر

مرا شور سن کے جو لوگوں نے کیا پوچھنا تو کہے ہے کیا جسے میرؔ کہتے ہیں صاحبو یہ وہی تو خانہ خراب ہے

“Those who heard Mira's noise and asked about her, you ask what she says? O sirs, this 'Meer' whom you call, is none other than that very same old charlatan.”

— میر تقی میر

معنی

جو لوگوں نے میرا شور سن کے مجھ سے پوچھا کہ میں کیا کہتی ہوں، تم پوچھو۔ صاحبوں، جسے تم 'میر' کہتے ہو، وہ تو وہی پرانا خانے خراب ہے۔

تشریح

جب میر تقی میر کہتے ہیں کہ لوگوں نے 'مِیرا' کا شور سن کر پوچھا کہ وہ کیا کہتی ہیں، اور پھر کہتے ہیں کہ جو 'میر' آپ ساہب کہتے ہیں، وہ تو وہی پرانا فریب ہے، تو یہاں ایک گہرا طنزیہ انداز ہے۔ میر اپنے آپ کو ایک فریبکار کہہ کر، دراصل معاشرے اور فن کے منافقانہ رویے پر تنقید کر رہے ہیں۔ وہ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ شہرت اور تعریف اکثر حقیقت سے کوسوں دور ہوتی ہے، اور فن کی دنیا میں شناخت کا مطلب اکثر دھوکہ ہوتا ہے۔ یہ ان کی خود تنقیدی اور گہری مایوسی کا حسین امتزاج ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوت
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

← Prev12 / 12