Sukhan AI
غزل

हुसूल काम का दिल-ख़्वाह याँ हुआ भी है

हुसूल काम का दिल-ख़्वाह याँ हुआ भी है
میر تقی میر· Ghazal· 12 shers

یہ غزل زندگی میں کوئی چیز حاصل کرنے کی خواہش اور اس کے حصول کے لیے کی گئی کوشش کے بارے میں ہے۔ شاعر کا خیال ہے کہ زندگی میں ہر چیز کا ایک مقصد ہوتا ہے، اور ہر درد کا کوئی نہ کوئی علاج بھی ہوتا ہے۔ یہ انسانی جذبات کی پیچیدگی اور رشتوں کی سچائی کو بیان کرتی ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
हुसूल काम का दिल-ख़्वाह याँ हुआ भी है समाजत इतनी भी सब से कोई ख़ुदा भी है
ہصول کام کا دل-خواہ یاں ہوا بھی ہے، ایک تڑپ باقی ہے؛ معاشرے میں سب کے لیے کوئی خدا بھی ہے۔
2
मूए ही जाते हैं हम दर्द-ए-इश्क़ से यारो कसो के पास इस आज़ार की दवा भी है
یاروں، ہم دردِ عشق سے رخصت ہو رہے ہیں؛ کیا تمہارے پاس اس عذاب کی کوئی دوا ہے؟
3
उदासियाँ थीं मिरी ख़ानका में काबिल-ए-सैर सनम-कदे में तो टिक के दिल लगा भी है
میری اداسیان خانقاہ میں گھومنے کے قابل تھیں، مگر سنم کی موجودگی میں تو دل ٹھہر بھی نہ سکا۔
4
ये कहिए क्यूँके कि ख़ूबाँ से कुछ नहीं मतलब लगे जो फिरते हैं हम कुछ तो मुद्दआ' भी है
یہ نہ کہیں کہ آپ کو کسی چیز سے کوئی مطلب نہیں، کیونکہ ہم جو گھومتے ہیں، اس میں بھی کوئی نہ کوئی مقصد ضرور ہوتا ہے۔
5
तिरा है वहम कि मैं अपने पैरहन में हूँ निगाह ग़ौर से कर मुझ में कुछ रहा भी है
یہ وہم ہے کہ میں اپنے لباس میں ہوں؛ نگاہ غور سے کر مجھ میں کچھ رہا بھی ہے۔
6
जो खोलूँ सीना-ए-मजरूह तो नमक छिड़के जराहत उस को दिखाने का कुछ मज़ा भी है
اگر میں زخمِ سینہ کھولوں تو نمک چھڑکے؛ زخم کو دکھانے میں کچھ مزہ بھی ہے۔
7
कहाँ तलक शब-ओ-रोज़ आह-ए-दर्द-ए-दिल कहिए हर एक बात को आख़िर कुछ इंतिहा भी है
شاعر پوچھ رہا ہے کہ دل کے درد کی آہیں کب تک نکالیں، کیونکہ ہر بات کی ایک انتہا بھی ہوتی ہے۔
8
हवस तो दिल में हमारे जगह करे लेकिन कहीं हुजूम से अंदोह-ए-ग़म के जा भी है
حوس تو دل میں ہمارے جگہ کرے لیکن کہیں ہجوم سے اندوۂ غم کے جا بھی ہے ۔ اس کا سادہ مطلب ہے کہ خواہشات ہمارے دل میں رہ سکتی ہیں، لیکن غم کا اندھیرا ہجوم کی طرف چلا گیا ہے۔
9
ग़म-ए-फ़िराक़ है दुम्बाला-ए-गर्द ऐश-ए-विसाल फ़क़त मज़ा ही नहीं इश्क़ में बला भी है
گُمِ فِراق ہے دُمبلأے گرد عِشْقِ وِصَال فقط مَزّہ ہی نہیں اِشْق میں بلا بھی ہے
10
क़ुबूल करिए तिरी रह में जी को खो देना जो कुछ भी पाइए तुझ को तो आश्ना भी है
میرے عشق میں دل کو کھو دینے کو قبول کر لو، جو کچھ بھی مجھے ملے گا، وہ میرے لیے دوست ہے۔
11
जिगर में सोज़न-ए-मिज़्गाँ के तीं कढब गड़ो कसो के ज़ख़्म को तू ने कभू सिया भी है
دل میں مِرگی کے درد کے ایسے گہرے گڑھے نہ کھودو، کیونکہ تم نے کبھی ایسا زخم نہیں سایا ہے۔
12
गुज़ार शहर-ए-वफ़ा में समझ के कर मजनूँ कि इस दयार में 'मीर' शिकस्ता-पा भी है
اے مجنوں، وفا کے شہر میں سمجھداری سے عمل کر، کیونکہ اس دائرے میں 'میر' جیسا شکست خوردہ شاعر بھی موجود ہے۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.

हुसूल काम का दिल-ख़्वाह याँ हुआ भी है | Sukhan AI