غزل
हुसूल काम का दिल-ख़्वाह याँ हुआ भी है
हुसूल काम का दिल-ख़्वाह याँ हुआ भी है
یہ غزل زندگی میں کوئی چیز حاصل کرنے کی خواہش اور اس کے حصول کے لیے کی گئی کوشش کے بارے میں ہے۔ شاعر کا خیال ہے کہ زندگی میں ہر چیز کا ایک مقصد ہوتا ہے، اور ہر درد کا کوئی نہ کوئی علاج بھی ہوتا ہے۔ یہ انسانی جذبات کی پیچیدگی اور رشتوں کی سچائی کو بیان کرتی ہے۔
نغمہ سنیں
1
हुसूल काम का दिल-ख़्वाह याँ हुआ भी है
समाजत इतनी भी सब से कोई ख़ुदा भी है
حصول کام کا دل خواہ یاں ہوا بھی ہے
سماجت اتنی بھی سب سے کوئی خدا بھی ہے
ہصول کام کا دل-خواہ یاں ہوا بھی ہے، ایک تڑپ باقی ہے؛ معاشرے میں سب کے لیے کوئی خدا بھی ہے۔
2
मूए ही जाते हैं हम दर्द-ए-इश्क़ से यारो
कसो के पास इस आज़ार की दवा भी है
موئے ہی جاتے ہیں ہم درد عشق سے یارو
کسو کے پاس اس آزار کی دوا بھی ہے
یاروں، ہم دردِ عشق سے رخصت ہو رہے ہیں؛ کیا تمہارے پاس اس عذاب کی کوئی دوا ہے؟
3
उदासियाँ थीं मिरी ख़ानका में काबिल-ए-सैर
सनम-कदे में तो टिक आ के दिल लगा भी है
اداسیاں تھیں مری خانقہ میں قابل سیر
صنم کدے میں تو ٹک آ کے دل لگا بھی ہے
میری اداسیان خانقاہ میں گھومنے کے قابل تھیں، مگر سنم کی موجودگی میں تو دل ٹھہر بھی نہ سکا۔
4
ये कहिए क्यूँके कि ख़ूबाँ से कुछ नहीं मतलब
लगे जो फिरते हैं हम कुछ तो मुद्दआ' भी है
یہ کہیے کیونکے کہ خوباں سے کچھ نہیں مطلب
لگے جو پھرتے ہیں ہم کچھ تو مدعا بھی ہے
یہ نہ کہیں کہ آپ کو کسی چیز سے کوئی مطلب نہیں، کیونکہ ہم جو گھومتے ہیں، اس میں بھی کوئی نہ کوئی مقصد ضرور ہوتا ہے۔
5
तिरा है वहम कि मैं अपने पैरहन में हूँ
निगाह ग़ौर से कर मुझ में कुछ रहा भी है
ترا ہے وہم کہ میں اپنے پیرہن میں ہوں
نگاہ غور سے کر مجھ میں کچھ رہا بھی ہے
یہ وہم ہے کہ میں اپنے لباس میں ہوں؛ نگاہ غور سے کر مجھ میں کچھ رہا بھی ہے۔
6
जो खोलूँ सीना-ए-मजरूह तो नमक छिड़के
जराहत उस को दिखाने का कुछ मज़ा भी है
جو کھولوں سینۂ مجروح تو نمک چھڑکے
جراحت اس کو دکھانے کا کچھ مزہ بھی ہے
اگر میں زخمِ سینہ کھولوں تو نمک چھڑکے؛ زخم کو دکھانے میں کچھ مزہ بھی ہے۔
7
कहाँ तलक शब-ओ-रोज़ आह-ए-दर्द-ए-दिल कहिए
हर एक बात को आख़िर कुछ इंतिहा भी है
کہاں تلک شب و روز آہ درد دل کہیے
ہر ایک بات کو آخر کچھ انتہا بھی ہے
شاعر پوچھ رہا ہے کہ دل کے درد کی آہیں کب تک نکالیں، کیونکہ ہر بات کی ایک انتہا بھی ہوتی ہے۔
8
हवस तो दिल में हमारे जगह करे लेकिन
कहीं हुजूम से अंदोह-ए-ग़म के जा भी है
ہوس تو دل میں ہمارے جگہ کرے لیکن
کہیں ہجوم سے اندوہ غم کے جا بھی ہے
حوس تو دل میں ہمارے جگہ کرے لیکن کہیں ہجوم سے اندوۂ غم کے جا بھی ہے ۔ اس کا سادہ مطلب ہے کہ خواہشات ہمارے دل میں رہ سکتی ہیں، لیکن غم کا اندھیرا ہجوم کی طرف چلا گیا ہے۔
9
ग़म-ए-फ़िराक़ है दुम्बाला-ए-गर्द ऐश-ए-विसाल
फ़क़त मज़ा ही नहीं इश्क़ में बला भी है
غم فراق ہے دنبالۂ گرد عیش وصال
فقط مزہ ہی نہیں عشق میں بلا بھی ہے
گُمِ فِراق ہے دُمبلأے گرد عِشْقِ وِصَال
فقط مَزّہ ہی نہیں اِشْق میں بلا بھی ہے
10
क़ुबूल करिए तिरी रह में जी को खो देना
जो कुछ भी पाइए तुझ को तो आश्ना भी है
قبول کریے تری رہ میں جی کو کھو دینا
جو کچھ بھی پائیے تجھ کو تو آشنا بھی ہے
میرے عشق میں دل کو کھو دینے کو قبول کر لو، جو کچھ بھی مجھے ملے گا، وہ میرے لیے دوست ہے۔
11
जिगर में सोज़न-ए-मिज़्गाँ के तीं कढब न गड़ो
कसो के ज़ख़्म को तू ने कभू सिया भी है
جگر میں سوزن مژگاں کے تیں کڈھب نہ گڑو
کسو کے زخم کو تو نے کبھو سیا بھی ہے
دل میں مِرگی کے درد کے ایسے گہرے گڑھے نہ کھودو، کیونکہ تم نے کبھی ایسا زخم نہیں سایا ہے۔
12
गुज़ार शहर-ए-वफ़ा में समझ के कर मजनूँ
कि इस दयार में 'मीर' शिकस्ता-पा भी है
گزار شہر وفا میں سمجھ کے کر مجنوں
کہ اس دیار میں میرؔ شکستہ پا بھی ہے
اے مجنوں، وفا کے شہر میں سمجھداری سے عمل کر، کیونکہ اس دائرے میں 'میر' جیسا شکست خوردہ شاعر بھی موجود ہے۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
