कहाँ तलक शब-ओ-रोज़ आह-ए-दर्द-ए-दिल कहिए
हर एक बात को आख़िर कुछ इंतिहा भी है
“Tell me, to what extent should I utter these sighs of heartache, For every word, there is eventually a limit.”
— میر تقی میر
معنی
شاعر پوچھ رہا ہے کہ دل کے درد کی آہیں کب تک نکالیں، کیونکہ ہر بات کی ایک انتہا بھی ہوتی ہے۔
تشریح
یہ شعر زندگی کے ایک حقیقت پر بات کرتا ہے۔ شاعر پوچھ رہے ہیں کہ دل کے درد کی آہ و زاری کو کہاں تک کیا جائے؟ ہر چیز کو ایک انتہا ہوتی ہے، یہ یاد دہانی ہے کہ غم بھی مستقل نہیں ہوتا۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
