غزل
शैख़ जी आओ मुसल्ला गिरो जाम करो
शैख़ जी आओ मुसल्ला गिरो जाम करो
یہ غزل ایک مے پرست اور روحانی طنزیہ امتزاج ہے، جس میں شاعر اپنے روحانی مرشد یا محبوب کو نشہ اور نشاط کی حالت میں آنے کی دعوت دیتا ہے۔ اس میں دنیاوی منافقت اور دکھاوے کو چھوڑ کر، سچے عشق اور خوشگوار زندگی گزارنے کا پیغام ہے۔
نغمہ سنیں
1
शैख़ जी आओ मुसल्ला गिरो जाम करो
जिंस तक़्वा के तईं सिर्फ़ मय-ए-ख़ाम करो
شیخ جی آؤ مصلیٰ گرو جام کرو
جنس تقویٰ کے تئیں صرف مئے خام کرو
اے شیخ جی، آ کر مصلا پر جام ڈالو؛ تقویٰ کے پیالے سے صرف مےِ خام ڈالو۔
2
फ़र्श मस्ताँ करो सज्जादा-ए-बे-तह के तईं
मय की ताज़ीम करो शीशे का इकराम करो
فرش مستاں کرو سجادۂ بے تہ کے تئیں
مے کی تعظیم کرو شیشے کا اکرام کرو
فرش مستان کرو، سجادۂ بے تہ کے تئیں। مے کی تعظیم کرو، شیشے کا اکرام کرو۔ اس کا سادہ مطلب ہے: فرش کو سجاؤ، اس نہ ختم ہونے والے چٹائی (سجادہ) کی تیاری کرو۔ شراب کا احترام کرو، اور آئینہ کی رونق بڑھاؤ۔
3
दामन-ए-पाक को आलूदा रखो बादे से
आप को मुग़्बचों के क़ाबिल-ए-दुश्नाम करो
دامن پاک کو آلودہ رکھو بادے سے
آپ کو مغبچوں کے قابل دشنام کرو
شاعر کہتا ہے کہ پاک دامن کو شراب سے آلودہ نہ رکھنا، اور خود کو دشمن کی دشمنی کے قابل بنانا۔
4
नेक-नामी-ओ-तक़ावत को दुआ जल्द कहो
दीन-ओ-दिल पेश-कश सादा-ए-ख़ुद-काम करो
نیک نامی و تقاوت کو دعا جلد کہو
دین و دل پیش کش سادۂ خود کام کرو
نیک-نامی و تقویٰ کی دعا جلد کہو، دین و دل پیش کش سادۂ خود کام کرو۔
5
नंग-ओ-नामूस से अब गुज़रो जवानों की तरह
पर फ़िशानी करो और साक़ी से इबराम करो
ننگ و ناموس سے اب گزرو جوانوں کی طرح
پر فشانی کرو اور ساقی سے ابرام کرو
ننگ و ناموس سے اب جوانوں کی طرح گزر جاؤ، پر فیشانی کرو اور ساقی سے اقرار بھی کرو۔
6
ख़ूब अगर जुरआ' मय-नोश नहीं कर सकते
ख़ातिर-जमअ' मय-आशाम से ये काम करो
خوب اگر جرعہ مے نوش نہیں کر سکتے
خاطر جمع مے آشام سے یہ کام کرو
اگر تم جُرّۂ مے سے نش نش نہیں کر سکتے، تو خاطرِ جمع مے آ شام سے یہ کام کرو۔
7
उठ खड़े हो जो झुके गर्दन-ए-मीना-ए-शराब
ख़िदमत-ए-बादा-गुसाराँ ही सर-अंजाम करो
اٹھ کھڑے ہو جو جھکے گردن مینائے شراب
خدمت بادہ گساراں ہی سرانجام کرو
اٹھ کھڑے ہو جو جھکے گردنِ مینہِ شراب، وہ شراب کے برتن کی خدمت کو ہی سر انجام کرے۔
8
मुतरिब आ कर जो करे चंग-नवाज़ी तो तुम
पैरहन मस्तों की तक़लीद से इनआ'म करो
مطرب آ کر جو کرے چنگ نوازی تو تم
پیرہن مستوں کی تقلید سے انعام کرو
اگر متریب آ کر جو رقص کرے تو تم مستوں کے لباس کی تقلید سے انعام نہ کرو۔
9
ख़ुनकी इतनी भी तो लाज़िम नहीं इस मौसम में
पास जोश-ए-गुल-ओ-दिल गर्मी-ए-अय्याम करो
خنکی اتنی بھی تو لازم نہیں اس موسم میں
پاس جوش گل و دل گرمی ایام کرو
اس موسم میں اتنی زیادہ جنون کی ضرورت نہیں؛ دنوں کی گرمی میں دل اور محبت کے پھول کا جوش ہی کافی ہے۔
10
साया-ए-गुल में लब-ए-जू पे गुलाबी रखो
हाथ में जाम को लो आप को बदनाम करो
سایۂ گل میں لب جو پہ گلابی رکھو
ہاتھ میں جام کو لو آپ کو بدنام کرو
شاید کے سائے میں لبوں پر گلابی رنگ رکھو، اور ہاتھ میں جام لے کر خود کو بدنام کرو۔
11
आह-ए-ता-चंद रहो ख़ानकाह-ओ-मस्जिद में
एक तो सुब्ह-ए-गुलसिताँ में भी शाम करो
آہ تا چند رہو خانقہ و مسجد میں
ایک تو صبح گلستاں میں بھی شام کرو
آہ-ے-تا-چند کے ساتھ خانقاہ و مسجد میں رہو، ایک تو صبح کے گلستان میں بھی شام کر۔
12
रात तो सारी गई सुनते परेशाँ-गोई
'मीर'-जी कोई घड़ी तुम भी तो आराम करो
رات تو ساری گئی سنتے پریشاں گوئی
میرؔ جی کوئی گھڑی تم بھی تو آرام کرو
ساری رات تک پریشان گوی سنتے ہوئے تھک گئے، میر جی، آپ بھی تھوڑا آرام کر لو۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
