ننگ و ناموس سے اب گزرو جوانوں کی طرح — میر تقی میر
ننگ و ناموس سے اب گزرو جوانوں کی طرح
پر فشانی کرو اور ساقی سے ابرام کرو
“Pass through the disgrace of nakedness, like the youth, But make a promise and take a vow from the cupbearer.”
— میر تقی میر
معنی
ننگ و ناموس سے اب جوانوں کی طرح گزر جاؤ، پر فیشانی کرو اور ساقی سے اقرار بھی کرو۔
تشریح
یہ شعر زندگی کی بے چارگی اور ذلت سے گزرنے کا احکام کرتا ہے۔ شاعر مشورہ دیتے ہیں کہ ہمیں بہادری سے گزرنا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنے فن اور ادا کو بھی زندہ رکھنا ہے، اور سب سے بڑھ کر، صاقی سے روحانی بلندی (इबराम) حاصل کرنی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
