غزل

मुस्तूजिब-ए-ज़ुलम-ओ-सितम-ओ-जौर-ओ-जफ़ा हूँ

मुस्तूजिब-ए-ज़ुलम-ओ-सितम-ओ-जौर-ओ-जफ़ा हूँ
میر تقی میر· Ghazal· 12 shers

یہ غزل ایک ایسے شخص کی تصویر کرتی ہے جو ظلم، ستم، جور، اور جفا کا مستحق ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ وہ عشق کے ہر قسم کے امتحان میں جلتا ہے، مگر وہ وفاداری کی گرمی بھی ہے۔ وہ دنیا کے باغ میں کھلنے والا نہیں، بلکہ ایک مفروغ کالی جیسا ہے جو اپنے محبوب کے راستے میں آنکھوں سے چلتا ہے۔ مرکزی خیال صبر و مصیبت اور وفاداری کا ہے۔

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
मुस्तूजिब-ए-ज़ुलम-ओ-सितम-ओ-जौर-ओ-जफ़ा हूँ हर-चंद कि जलता हूँ पे सरगर्म-ए-वफ़ा हूँ
مستوجب ظلم و ستم و جور و جفا ہوں ہر چند کہ جلتا ہوں پہ سرگرم وفا ہوں
میں وہ ہوں جو ظلم، ستم، جور، اور جفا کا مستحق ہوں، مگر ہر لمحہ میں وفا کی گرمی سے جلتا ہوں۔
2
आते हैं मुझे ख़ूब से दोनों हुनर-ए-इश्क़ रोने के तईं आँधी हूँ कुढ़ने को बला हूँ
آتے ہیں مجھے خوب سے دونوں ہنر عشق رونے کے تئیں آندھی ہوں کڑھنے کو بلا ہوں
مجھے دونوں ہنرِ عشق بہت اچھے سے آتے ہیں۔ میں رونے کے لیے آندھی ہوں اور جھیلنے کے لیے ایک بلا ہوں۔
3
इस गुलशन-ए-दुनिया में शगुफ़्ता न हुआ मैं हूँ ग़ुंचा-ए-अफ़्सुर्दा कि मर्दूद-ए-सबा हूँ
اس گلشن دنیا میں شگفتہ نہ ہوا میں ہوں غنچۂ افسردہ کہ مردود صبا ہوں
اس گلشنِ دنیا میں میں کھلا نہیں، میں ایک مرجھایا ہوا گچھا ہوں جو صرف بکھری ہوئی بہار کی ہوا ہے۔
4
हम-चश्म है हर आबला-ए-पा का मिरा अश्क अज़-बस कि तिरी राह में आँखों से चला हूँ
ہم چشم ہے ہر آبلۂ پا کا مرا اشک از بس کہ تری راہ میں آنکھوں سے چلا ہوں
میرے اشق ہر آبلے پا کا میرا اشک، از بس کہ تیری راہ میں آنکھوں سے چلا ہوں۔
5
आया कोई भी तरह मिरे चीन की होगी आज़ुर्दा हूँ जीने से मैं मरने से ख़फ़ा हूँ
آیا کوئی بھی طرح مرے چین کی ہوگی آزردہ ہوں جینے سے میں مرنے سے خفا ہوں
کوئی بھی طرح میرے چین کا ہوگا، میں جینے اور مرنے سے بے پروا ہوں۔
6
दामन न झटक हाथ से मेरे कि सितमगर हूँ ख़ाक-ए-सर-ए-राह कोई दम में हुआ हूँ
دامن نہ جھٹک ہاتھ سے میرے کہ ستم گر ہوں خاک سر راہ کوئی دم میں ہوا ہوں
دامن نہ جھٹک ہاتھ سے میرے، کہ ستمگر۔ میں تو بس راہ کی دھول ہوں، جو لمحے کے لیے ہوں۔
7
दिल ख़्वाह जला अब तो मुझे ऐ शब-ए-हिज्राँ मैं सोख़्ता भी मुंतज़िर-ए-रोज़-ए-जज़ा हूँ
دل خواہ جلا اب تو مجھے اے شب ہجراں میں سوختہ بھی منتظر روز جزا ہوں
اے دل، جو تڑپ سے چلا اب تو مجھے اے شبِ ہجران، میں سوخوا بھی منتظرِ روزِ جزا ہوں
8
गो ताक़त-ओ-आराम-ओ-ख़ोर-ओ-ख़्वाब गए सब बारे ये ग़नीमत है कि जीता तो रहा हूँ
گو طاقت و آرام و خور و خواب گئے سب بارے یہ غنیمت ہے کہ جیتا تو رہا ہوں
اے، طاقت و آرام و خور و خواب، سب چلے گئے؛ یہ ایک نعمت ہے کہ میں زندہ تو رہا ہوں۔
9
इतना ही मुझे इल्म है कुछ मैं हूँ बहर-चीज़ मा'लूम नहीं ख़ूब मुझे भी कि मैं क्या हूँ
اتنا ہی مجھے علم ہے کچھ میں ہوں بہر چیز معلوم نہیں خوب مجھے بھی کہ میں کیا ہوں
مجھے صرف اتنا ہی علم ہے کہ میں کون ہوں، مگر یہ بھی مجھے پوری طرح سے نہیں معلوم کہ میں کیا ہوں۔
10
बेहतर है ग़रज़ ख़ामुशी ही कहने से याराँ मत पूछो कुछ अहवाल कि मर मर के जिया हूँ
بہتر ہے غرض خامشی ہی کہنے سے یاراں مت پوچھو کچھ احوال کہ مر مر کے جیا ہوں
یاروں، ضرورت کو خاموشی ہی رہنے دینا بہتر ہے۔ میری احوال کے بارے میں کچھ مت پوچھنا، کیونکہ میں مر مر کے جیا ہوں۔
11
तब गर्म-ए-सुख़न कहने लगा हूँ मैं कि इक उम्र जूँ शम्अ' सर-ए-शाम से ता-सुब्ह जला हूँ
تب گرم سخن کہنے لگا ہوں میں کہ اک عمر جوں شمع سر شام سے تا صبح جلا ہوں
تب گرم-ے-سخن کہنے لگا ہوں میں کہ اک عمر جوں شمع سر-ے-شام سے تا-سُبْح جلا ہوں اس کا مطلب ہے کہ میں کہہ رہا ہوں کہ یہ شیریں باتیں (گرم-ے-سخن) اس لیے ہیں کیونکہ میں نے ایک عمر تک شام کے وقت سے لے کر صبح کے وقت تک ایک مومبتی جلائی ہے۔
12
सीना तो किया फ़ज़्ल-ए-इलाही से सभी चाक है वक़्त-ए-दुआ 'मीर' कि अब दिल को लगा हूँ
سینہ تو کیا فضل الٰہی سے سبھی چاک ہے وقت دعا میرؔ کہ اب دل کو لگا ہوں
میرا سینہ تو فضلِ الٰہی سے سبھی چاک ہے؛ وقتِ دعا ہے، میر، کہ اب دل کو لگا ہوں
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.