غزل
क्या तरह है आश्ना गाहे-गहे ना-आश्ना
क्या तरह है आश्ना गाहे-गहे ना-आश्ना
یہ غزل ایک ایسے رشتے کی پیچیدگیوں کو بیان کرتی ہے جو کبھی جان پہچان (آشنا) ہوتا ہے اور کبھی اجنبی (غیر آشنا)۔ شاعر کہتا ہے کہ یا تو مکمل طور پر اجنبی رہنا بہتر ہے یا مکمل طور پر آشنا، کیونکہ یہ رشتہ بے وفائی اور دھوکے کا شکار ہے۔ یہ جذباتی اتار چڑھاؤ اور جدائی کے دکھ کو ایک پیار کے ساتھ جڑے رہنے کے متضاد تجربات کے ذریعے پیش کرتی ہے۔
نغمہ سنیں
1
क्या तरह है आश्ना गाहे-गहे ना-आश्ना
या तो बेगाने ही रहिए होजिए या आश्ना
کیا طرح ہے آشنا گاہے گہے نا آشنا
یا تو بیگانے ہی رہیے ہوجیے یا آشنا
یہ کیسا پیار ہے کہ مانوس کو اجنبی کہا جاتا ہے؛ یا تو بیگانے ہی رہیے، ہوجیے یا مانوس۔
2
पाएमाल-ए-सद-जफ़ा ना-हक़ न हो ऐ अंदलीब
सब्ज़ा-ए-बेगाना भी था इस चमन का आश्ना
پائمال صد جفا نا حق نہ ہو اے عندلیب
سبزۂ بیگانہ بھی تھا اس چمن کا آشنا
सौ زمانے کی جفا کا ہار، اے اندیریب، نہ حق ہو؛ سبزاے بیگانہ بھی تھا اِس چمن کا آشنا۔
3
कौन से ये बहर-ए-ख़ूबी की परेशाँ ज़ुल्फ़ है
आती है आँखों में मेरी मौज दरिया-आश्ना
کون سے یہ بحر خوبی کی پریشاں زلف ہے
آتی ہے آنکھوں میں میری موج دریا آشنا
یہ کون سی بہرِ خُوبی کی پریشان زُلف ہے، جو میری آنکھوں میں ایک مانوس دریا کی موج بن کر آتی ہے۔
4
रोना ही आता है हम को दिल हुआ जब से जुदा
जाए रोने ही की है जावे जब ऐसा आश्ना
رونا ہی آتا ہے ہم کو دل ہوا جب سے جدا
جائے رونے ہی کی ہے جاوے جب ایسا آشنا
ہمارے دل کے جدا ہونے سے ہمیں صرف رونا آتا ہے۔ جب بھی ایسا پیارا شخص دور جاتا ہے، ہم روتے ہیں۔
5
ना-समझ है तो जो मेरी क़द्र नईं करता कि शोख़
कम बहुत मिलता है फिर दिल-ख़्वाह इतना आश्ना
نا سمجھ ہے تو جو میری قدر نئیں کرتا کہ شوخ
کم بہت ملتا ہے پھر دل خواہ اتنا آشنا
اگر تم نا سمجھ ہو، تو جو میری قدر نہیں کرتا کہ سُخ۔ کم بہت ملتا ہے پھر دل خوہ وہ اتنا آشنا۔
6
बुलबुलें पाईज़ में कहती थीं होता काशके
यक मिज़ा रंग फ़रारी इस चमन का आश्ना
بلبلیں پائیز میں کہتی تھیں ہوتا کاشکے
یک مژہ رنگ فراری اس چمن کا آشنا
بلبلیں پائیز میں کہتی تھیں ہوتا کاشکے، یاک مِزاج رنگ فراری اِس چمن کا آشنا۔ اس کا سادہ مطلب ہے کہ بلبلیں پائیز میں कहती थीं कि काश उन्हें कोई अलग रंग मिलता जो इस बाग की आदत से दूर हो।
7
को गुल-ओ-लाला कहाँ सुम्बुल समन हम-नस्तरन
ख़ाक से यकसाँ हुए हैं हाए क्या क्या आश्ना
کو گل و لالہ کہاں سنبل سمن ہم نسترن
خاک سے یکساں ہوئے ہیں ہائے کیا کیا آشنا
اے گل و لالا، کہاں صندل سمن ہم نسترن۔ خاک سے یکساں ہوئے ہیں، ہائے کیا کیا آشنا۔ (شایر جمال اور خوشبو کی کمی پر رنجیدہ ہو کر کہہ رہا ہے کہ سب کچھ دھول میں مل گیا، مگر یادیں باقی ہیں۔)
8
क्या करूँ किस से कहूँ इतना ही बेगाना है यार
सारे 'आलम में नहीं पाते किसी का आश्ना
کیا کروں کس سے کہوں اتنا ہی بیگانہ ہے یار
سارے عالم میں نہیں پاتے کسی کا آشنا
کیا کروں کس سے کہوں، اتنا ہی بیگانہ ہے یار۔ سارے عالم میں نہیں پاتے کسی کا آسنا۔
9
जिस से मैं चाही विसातत उन ने ये मुझ से कहा
हम तो कहते गर मियाँ हम से वो होता आश्ना
جس سے میں چاہی وساطت ان نے یہ مجھ سے کہا
ہم تو کہتے گر میاں ہم سے وہ ہوتا آشنا
جن سے میں چاہا، انہوں نے یہ مجھ سے کہا کہ، 'اگر ہم بات کریں گے، میرے پیارے، تو یہ اعتماد کا معاملہ ہوگا۔'
10
यूँ सुना जा है कि करता है सफ़र का अज़्म-जज़्म
साथ अब बेगाना वज़्ओं के हमारा आश्ना
یوں سنا جا ہے کہ کرتا ہے سفر کا عزم جزم
ساتھ اب بیگانہ وضعوں کے ہمارا آشنا
یہ سنا جا ہے کہ وہ سفر کا عزم کرتا ہے، مگر اب وژوں کے ہمارا مانوس ساتھی ہمارے لیے اجنبی ہے۔
11
शे'र 'साइब' का मुनासिब है हमारी ओर से
सामने उस के पढ़े गर ये कोई जा आश्ना
شعر صائبؔ کا مناسب ہے ہماری اور سے
سامنے اس کے پڑھے گر یہ کوئی جا آشنا
'صائب' کا یہ شعر ہماری طرف سے مناسب ہے، اگر کوئی اسے ہمارے سامنے پڑھ دے، اے آشنا۔
12
ता-ब-जाँ मा हमरहीम व ता-ब-मंज़िल दीगराँ
फ़र्क़ बाशद जान-ए-मा अज़-आश्ना ता-आश्ना
تا بجاں ما ہمرہیم و تا بہ منزل دیگراں
فرق باشد جان ما از آشنا تا آشنا
شہر میں، میرا محبوب اور شہر، میری منزل بھی مختلف ہیں؛ اے جانِ ما، معلوم اور نامعلوم کے درمیان کا فرق بہت بڑا ہے۔
13
दाग़ है ताबाँ अलैहिर्रहमा का छाती पे 'मीर'
हो नजात उस को बेचारा हम से भी था आश्ना
داغ ہے تاباں علیہ الرحمہ کا چھاتی پہ میرؔ
ہو نجات اس کو بیچارہ ہم سے بھی تھا آشنا
میر! سینے پر میرے رب کی رحمت کا داغ ہے، کیا اس مسکین کی نجات ہمیں بھی نہیں تھی معلوم؟
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
