داغ ہے تاباں علیہ الرحمہ کا چھاتی پہ میرؔ
ہو نجات اس کو بیچارہ ہم سے بھی تھا آشنا
“Upon the chest, the stain of the mercy of the Lord, O Meer, Was there no reassurance for that poor soul, even from us?”
— میر تقی میر
معنی
میر! سینے پر میرے رب کی رحمت کا داغ ہے، کیا اس مسکین کی نجات ہمیں بھی نہیں تھی معلوم؟
تشریح
یہ شعر گہرے تعلق کے بعد کے دکھ کو بیان کرتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ محبوب کا عشق کا داغ دل پر ہمیشہ کے لیے رہ گیا ہے۔ مگر اصل درد یہ ہے کہ وہ شخص، جو اتنا پیارا تھا، اس سے بھی تو مانوس تھا... اسی مانوسیت نے نجات पाना नामुमकिन کر دیا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
← Prev13 / 13
