کو گل و لالہ کہاں سنبل سمن ہم نسترن
خاک سے یکساں ہوئے ہیں ہائے کیا کیا آشنا
“O, where are the gardens and the lilies, like the sandalwood? All have become one with dust; oh, what sweet memories.”
— میر تقی میر
معنی
اے گل و لالا، کہاں صندل سمن ہم نسترن۔ خاک سے یکساں ہوئے ہیں، ہائے کیا کیا آشنا۔ (شایر جمال اور خوشبو کی کمی پر رنجیدہ ہو کر کہہ رہا ہے کہ سب کچھ دھول میں مل گیا، مگر یادیں باقی ہیں۔)
تشریح
یہ شعر وقت کے گزر جانے کا درد بیان کرتا ہے۔ شاعر پوچھ رہے ہیں کہ گلابوں اور لالیوں کی وہ خوشبو کہاں گئی، کیونکہ سب کچھ، اپنی خوبصورتی کے باوجود، آخر کار مٹی میں مل کر ایک جیسا ہو گیا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
