غزل

हर जज़्र-ओ-मद से दस्त-ओ-बग़ल उठते हैं ख़रोश

हर जज़्र-ओ-मद से दस्त-ओ-बग़ल उठते हैं ख़रोश
میر تقی میر· Ghazal· 12 shers

یہ غزل بتاتی ہے کہ ہر جزر و مد کے ساتھ بازوؤں اور بغل سے خراشیں اٹھتی ہیں۔ یہ زندگی کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ آنے والے درد اور اسرار محبت کے جذبات کو بیان کرتی ہے، جہاں ہر لہر اور ہر موتی کسی نہ کسی کہانی کا گواہ ہے۔

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
हर जज़्र-ओ-मद से दस्त-ओ-बग़ल उठते हैं ख़रोश किस का है राज़ बहर में यारब कि ये हैं जोश
ہر جزر و مد سے دست و بغل اٹھتے ہیں خروش کس کا ہے راز بحر میں یا رب کہ یہ ہیں جوش
ہر جزرومد سے دست و بغل اٹھتے ہیں خروش، کس کا ہے راز بحر میں یارب کہ یہ ہیں جوش۔
2
अबरू-ए-कज है मौज कोई चश्म है हबाब मोती किसी की बात है सीपी किसी का गोश
ابروئے کج ہے موج کوئی چشم ہے حباب موتی کسی کی بات ہے سیپی کسی کا گوش
ابروئے کج ہے موج کوئی چشم ہے حباب۔ موتی کسی کی بات ہے، صیپ کسی کا گوش۔
3
उन मुग़्बचों के कूचे ही से मैं क्या सलाम क्या मुझ को तौफ़-ए-काबा से में रिंद-ए-दर्द-नोश
ان مغبچوں کے کوچے ہی سے میں کیا سلام کیا مجھ کو طوف کعبہ سے میں رند درد نوش
ان مغبचों کی گلیوں سے مجھے کیا سلام، کیا مجھ کو توفے کعبہ سے ہے میں رندِ درد نوش۔
4
हैरत से होवे परतव-ए-मह नूर आईना तू चाँदनी में निकले अगर हो सफ़ेद-पोश
حیرت سے ہووے پرتو مہ نور آئینہ تو چاندنی میں نکلے اگر ہو سفید پوش
تیرے سفید لباس میں چاندنی میں نکلنے سے، چاند کے نور کا پردہ بھی حیران ہو جاتا ہے۔
5
कल हम ने सैर-ए-बाग़ में दिल हाथ से दिया इक सादा गुल-फ़रोश का आ कर सबद ब-दोश
کل ہم نے سیر باغ میں دل ہاتھ سے دیا اک سادہ گل فروش کا آ کر سبد بہ دوش
کل ہم نے سیر-ए-باغ میں دل ہاتھ سے دیا، ایک سادہ گل فروش کے آ کر سُبْد بُ دوش۔
6
जाता रहा निगाह से जूँ मौसम-ए-बहार आज उस बग़ैर दाग़-ए-जिगर हैं सियाह-पोश
جاتا رہا نگاہ سے جوں موسم بہار آج اس بغیر داغ جگر ہیں سیاہ پوش
نظریے سے جیسے موسمِ بہار گزر گیا، آج اس پر داغِ جگر کے بغیر وہ سیاہ لباس میں ہے۔
7
शब इस दिल-ए-गिरफ़्ता को वा कर ब-ज़ोर-ए-मय बैठे थे शीरा-ख़ाने में हम कितने हर्ज़ा-कोश
شب اس دل گرفتہ کو وا کر بزور مے بیٹھے تھے شیرہ خانے میں ہم کتنے ہرزہ کوش
اے دل، قید دل، زبردست مے کے نشے سے ایسا کیوں کر رہے ہو؟ ہم تو شیر خانے میں بیٹھے تھے، کتنے پریشان اور بے قرار تھے۔
8
आई सदा कि याद करो दूर रफ़्ता को 'इबरत भी है ज़रूर टक ऐ जम' तेज़ होश
آئی صدا کہ یاد کرو دور رفتہ کو عبرت بھی ہے ضرور ٹک اے جمع تیز ہوش
اے، مجھے یاد کرنا، جو دور چلا گیا ہے، کیونکہ تیز ہوش میں ضرور کوئی سبق ہے۔
9
जमशेद जिस ने वज़' किया जाम क्या हुआ वे नसीहतें कहाँ गईं कीधर वे नाव-नोश
جمشید جس نے وضع کیا جام کیا ہوا وے صحبتیں کہاں گئیں کیدھر وے ناؤ نوش
جمشید نے جس طرح سے جام کو ناپنے کا وعدہ کیا تھا، اس کا کیا ہوا؟ وہ نصیحتیں کہاں گئیں، اور وہ ناو-نوش کہاں ہے؟
10
जुज़ लाला उस के जाम से पाते नहीं निशाँ है कोकनार उस की जगह अब सुबू ब-दोश
جز لالہ اس کے جام سے پاتے نہیں نشاں ہے کوکنار اس کی جگہ اب سبو بہ دوش
जुज़ लाला के जाम में कोई निशान नहीं मिलता، اور کوکنار کی جگہ اب سوبو ب-دوش بن چکا ہے۔
11
झूमे है बेद जा-ए-जवानान मय-गुसार बाला-ए-ख़म है ख़िश्त सर पैर मय-फ़रोश
جھومے ہے بید جائے جوانان میگسار بالائے خم ہے خشت سر پیر مے فروش
جوانوں کی محفل میں بیاد جھوم رہا ہے، اور محبوب کا حسن نشے کی دکان جیسا ہے۔
12
'मीर' इस ग़ज़ल को ख़ूब कहा था ज़मीर ने पर ऐ ज़बाँ-दराज़ बहुत हो चुकी ख़मोश
میرؔ اس غزل کو خوب کہا تھا ضمیر نے پر اے زباں دراز بہت ہو چکی خموش
میر نے اس غزل کو بہت خوب کہا تھا ضمیر نے، پر اے زبان دراز بہت ہو چکی خاموش۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.