ہر جزر و مد سے دست و بغل اٹھتے ہیں خروش — میر تقی میر
ہر جزر و مد سے دست و بغل اٹھتے ہیں خروش
کس کا ہے راز بحر میں یا رب کہ یہ ہیں جوش
“From every crest and trough, hands and elbows rise in foam, Whose secret is this, beloved, that in the sea, there is such passion?”
— میر تقی میر
معنی
ہر جزرومد سے دست و بغل اٹھتے ہیں خروش، کس کا ہے راز بحر میں یارب کہ یہ ہیں جوش۔
تشریح
یہ شعر سمندر کے لہروں کے ذریعے زندگی کے اتار چڑھاؤ کو بیان کرتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ ہر جزر و مد سے دل کے زخم کھلتے ہیں۔ یہ جو موجوں میں جوش ہے، اس کا راز کیا ہے، اے یار! یہ عشق کی بے پایاں کیفیت ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوت
ہندی معنی
انگریزی معنی
ہندی تشریح
انگریزی تشریح
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
1 / 12Next →
