उन मुग़्बचों के कूचे ही से मैं क्या सलाम
क्या मुझ को तौफ़-ए-काबा से में रिंद-ए-दर्द-नोश
“From the alleys of those deceived, what greeting can I give?”
— میر تقی میر
معنی
ان مغبचों کی گلیوں سے مجھے کیا سلام، کیا مجھ کو توفے کعبہ سے ہے میں رندِ درد نوش۔
تشریح
یہ شعر मिर्ज़ा तक़ी मीर کے گہرے نفاست اور خود انحصاری کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ جھوٹے لوگوں کے چوکوں کو سلام کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ ان کا سہارا بیرونی برکتوں یا مذہبی حوالوں میں نہیں، بلکہ اپنے 'दर्द-نوش' ہونے میں ہے، جو کہ ایک سچائی ہے۔
Comments
Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.
No comments yet.
