Sukhan AI
غزل

छाती जला करे है सोज़-ए-दरूँ बला है

छाती जला करे है सोज़-ए-दरूँ बला है
میر تقی میر· Ghazal· 13 shers

یہ غزل دل کی اندرونی جلن کے ناقابلِ برداشت درد کا بیان کرتی ہے۔ شاعر اس عذاب کو ایک ایسی آگ قرار دیتا ہے جسے سمجھا نہیں جا سکتا، اور محبت و وفاداری کے درمیان کا تضاد ہی زندگی کا مرکزی موضوع ہے۔ یہ کلام فلسفیانہ طور پر بتاتا ہے کہ ہر شخص کی پریشانی اور غم کسی بیرونی وجہ سے نہیں، بلکہ یہ دل اور جان کا ایک الگ درد ہے۔

نغمے لوڈ ہو رہے ہیں…
00
1
छाती जला करे है सोज़-ए-दरूँ बला है इक आग सी रहे है क्या जानिए कि क्या है
یہ سینه جلانے والا غم ایک شدید تکلیف ہے۔ یہ ایک آگ کی طرح ہے، اور کوئی نہیں جانتا کہ یہ اصل میں کیا ہے۔
2
मैं और तू हैं दोनों मजबूर-ए-तौर अपने पेशा तिरा जफ़ा है शेवा मिरा वफ़ा है
میں اور تم دونوں اپنے اپنے طریقے سے مجبور ہیں؛ تمہارا پیشہ جفا کرنا ہے، اور میرا پیشہ وفا کرنا ہے۔
4
कुछ बे-सबब नहीं है ख़ातिर मिरी परेशाँ दिल का अलम जुदा है ग़म जान का जुदा है
شاعر کہتا ہے کہ تمہارے لیے میری یہ پریشانی بے سبب نہیں ہے؛ دل کا الم الگ ہے، اور جان کا غم اس سے بھی الگ ہے۔
5
हुस्न उन भी मोइनों का था आप ही सूरतों में इस मर्तबे से आगे कोई चले तो क्या है
شاعر کہہ رہا ہے کہ ان محلوں کی خوبصورتی آپ کے ہی چہروں میں تھی؛ اس مرتبہ سے آگے کوئی اور کیسے مقابلہ کر سکتا ہے۔
6
शादी से ग़म-ए-जहाँ में वो चंद हम ने पाया है ईद एक दिन तो दस रोज़ याँ दहा है
شادی سے غمِ جہاں میں وہ چند لمحے ملے؛ اگر عید ایک دن ہے تو یہ دس روز جشن ہیں۔
8
हो जाए यास जिस में सो आशिक़ी है वर्ना हर रंज को शिफ़ा है हर दर्द को दवा है
یا وہ مایوسی جس میں بہت محبت ہو، ورنہ ہر غم کا علاج ہے اور ہر درد کی دوا ہے۔
9
नायाब उस गुहर की क्या है तलाश आसाँ जी डूबता है उस का जो तह से आश्ना है
نایاب وہ جوہر کی کیا ہے تلاش آسان؟ یہ تو وہ شخص ہے جو اس کی تہہ سے آشنا ہے، وہ اس میں ڈوب جاتا ہے۔
12
है गरचे तिफ़्ल-ए-मकतब वो शोख़ अभी तो लेकिन जिस से मिला है उस का उस्ताद हो मिला है
اگرچہ وہ اسکول کا ایک شرارتی طالب علم ہے، مگر جس استاد سے اس کی ملاقات ہوئی ہے وہ واقعی عظیم ہے۔
13
फिरते हो 'मीर' साहब सब से जुदे जुदे तुम शायद कहीं तुम्हारा दिल इन दिनों लगा है
اے میر صاحب، تم سب سے الگ الگ گھومتے ہو، شاید ان دنوں تمہارا دل کہیں لگ گیا ہے۔
Comments

Read-only on web. Join the conversation in the Sukhan AI mobile app.

0

No comments yet.