غزل

اسے حال و قال سے واسطہ نہ غرض مقام و قیام سے

اسے حال و قال سے واسطہ نہ غرض مقام و قیام سے
جگر مرادآبادی· Ghazal· 13 shers· radif: से

یہ غزل عشق کی وارفتگی اور بے نیازی کو بیان کرتی ہے، جہاں محبوب کے حسنِ برق خرام سے نسبت رکھنے والے کو دنیا کے احوال اور مقام و قیام کی کوئی پروا نہیں رہتی۔ اس میں محبوب کی کبھی جلوہ نمائی اور کبھی پردہ نشینی کے درمیان ملنے والی دلی تسلیوں کی خوبصورت عکاسی کی گئی ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
उसे हाल-ओ-क़ाल से वास्ता न ग़रज़ मक़ाम-ओ-क़याम से जिसे कोई निस्बत-ए-ख़ास हो तिरे हुस्न-ए-बर्क़-ख़िराम से
اسے حال و قال سے واسطہ نہ غرض مقام و قیام سے جسے کوئی نسبت خاص ہو ترے حسن برق خرام سے
جس شخص کو تیرے بجلی کی طرح تیز رفتار حسن سے کوئی خاص تعلق ہو، اسے کسی صوفیانہ کیفیت، گفتگو یا کسی روحانی مقام اور منزل سے کوئی غرض نہیں رہتی۔
2
मुझे दे रहे हैं तसल्लियाँ वो हर एक ताज़ा पयाम से कभी आ के मंज़र-ए-आम पर कभी हट के मंज़र-ए-आम से
مجھے دے رہے ہیں تسلیاں وہ ہر ایک تازہ پیام سے کبھی آ کے منظر عام پر کبھی ہٹ کے منظر عام سے
وہ مجھے ہر نئے پیغام سے تسلی دے رہے ہیں، کبھی سب کے سامنے آ کر اور کبھی منظرِ عام سے غائب ہو کر۔
3
क्यूँ किया रहा जो मुक़ाबला ख़तरात-ए-गाम-ब-गाम से सर-ए-बाम-ए-इश्क़-ए-तमाम तक रह-ए-शौक़-ए-नीम-तमाम से
کیوں کیا رہا جو مقابلہ خطرات گام بہ گام سے سر بام عشق تمام تک رہ شوق نیم تمام سے
شوق کی ادھوری راہ سے لے کر مکمل عشق کی بلندی تک پہنچنے کے سفر میں ہر ہر قدم کے خطرات کا مقابلہ کیوں کیا جاتا رہا؟
4
न ग़रज़ किसी से न वास्ता मुझे काम अपने ही काम से तिरे ज़िक्र से तिरी फ़िक्र से तिरी याद से तिरे नाम से
نہ غرض کسی سے نہ واسطہ مجھے کام اپنے ہی کام سے ترے ذکر سے تری فکر سے تری یاد سے ترے نام سے
مجھے کسی سے کوئی غرض یا واسطہ نہیں ہے، مجھے صرف اپنے کام سے مطلب ہے اور میرا کام بس تمھارا ذکر، تمھاری فکر، تمھاری یاد اور تمھارا نام لینا ہے۔
5
मिरे साक़िया मिरे साक़िया तुझे मरहबा तुझे मरहबा तू पिलाए जा तू पिलाए जा इसी चश्म-ए-जाम-ब-जाम से
مرے ساقیا مرے ساقیا تجھے مرحبا تجھے مرحبا تو پلائے جا تو پلائے جا اسی چشم جام بہ جام سے
اے میرے ساقی، تجھے آفرین اور مرحبا! تو اپنی ان پیالے جیسی آنکھوں سے مجھے مسلسل شراب پلاتا رہ۔
6
तिरी सुब्ह-ए-ऐश है क्या बला तुझे ऐ फ़लक जो हो हौसला कभी कर ले आ के मुक़ाबला ग़म-ए-हिज्र-ए-यार की शाम से
تری صبح عیش ہے کیا بلا تجھے اے فلک جو ہو حوصلہ کبھی کر لے آ کے مقابلہ غم ہجر یار کی شام سے
اے آسمان، تیری عیش و خوشی کی صبح کی کیا حیثیت ہے؟ اگر تجھ میں ہمت ہے تو کبھی آ کر محبوب کی جدائی کے غم کی شام سے مقابلہ کر کے دیکھ۔
7
मुझे यूँ न ख़ाक में तू मिला मैं अगरचे हूँ तिरा नक़्श-ए-पा तिरे जल्वे की है बक़ा मिरे शौक़-ए-नाम-ब-नाम से
مجھے یوں نہ خاک میں تو ملا میں اگرچہ ہوں ترا نقش پا ترے جلوے کی ہے بقا مرے شوق نام بہ نام سے
مجھے اس طرح خاک میں مت ملاؤ، اگرچہ میں محض تمہارے قدموں کا نشان ہوں۔ تمہارے جلوے کی بقا میرے اس شوق کی بدولت ہے جو نام بہ نام تمہارا ذکر کرتا ہے۔
8
तिरी चश्म-ए-मस्त को क्या कहूँ कि नज़र नज़र है फ़ुसूँ फ़ुसूँ ये तमाम होश ये सब जुनूँ इसी एक गर्दिश-ए-जाम से
تری چشم مست کو کیا کہوں کہ نظر نظر ہے فسوں فسوں یہ تمام ہوش یہ سب جنوں اسی ایک گردش جام سے
تمہاری نشیلی آنکھوں کے بارے میں کیا کہوں کہ ان کی ہر نگاہ ایک سحر ہے؛ یہ تمام ہوش اور یہ ساری دیوانگی بس شراب کے پیالے کی اسی ایک گردش سے ہے۔
9
ये किताब-ए-दिल की हैं आयतें मैं बताऊँ क्या जो हैं निस्बतें मिरे सज्दा-हा-ए-दवाम को तिरे नक़्श-हा-ए-ख़िराम से
یہ کتاب دل کی ہیں آیتیں میں بتاؤں کیا جو ہیں نسبتیں مرے سجدہ ہائے دوام کو ترے نقش ہائے خرام سے
میں کیسے بیان کروں کہ میرے دائمی سجدوں کا تمہاری رفتار کے نقشِ قدم سے کیا گہرا تعلق ہے، یہ تو میرے دل کی کتاب کی آیات کی مانند ہیں۔
10
मुझे चाहिए वही साक़िया जो बरस चले जो छलक चले तिरे हुस्न-ए-शीशा-ब-दस्त से तिरी चश्म-ए-बादा-ब-जाम से
مجھے چاہیئے وہی ساقیا جو برس چلے جو چھلک چلے ترے حسن شیشہ بدست سے تری چشم بادہ بہ جام سے
اے ساقی، مجھے وہی شراب چاہیے جو تیرے ہاتھ میں صراحی تھامے حسن سے اور شراب کے پیالوں جیسی تیری آنکھوں سے برستی اور چھلکتی رہے۔
11
जो उठा है दर्द उठा करे कोई ख़ाक उस से गिला करे जिसे ज़िद हो हुस्न के ज़िक्र से जिसे चिढ़ हो इश्क़ के नाम से
جو اٹھا ہے درد اٹھا کرے کوئی خاک اس سے گلا کرے جسے ضد ہو حسن کے ذکر سے جسے چڑھ ہو عشق کے نام سے
اگر دل میں درد اٹھا ہے تو اٹھتا رہے، اس شخص سے کوئی کیا گلہ کرے جسے حسن کے ذکر سے ضد ہو اور عشق کے نام ہی سے چڑ ہو۔
12
वहीं चश्म-ए-हूर फड़क गई अभी पी न थी कि बहक गई कभी यक-ब-यक जो छलक गई किसी रिंद-ए-मस्त के जाम से
وہیں چشم حور پھڑک گئی ابھی پی نہ تھی کہ بہک گئی کبھی یک بیک جو چھلک گئی کسی رند مست کے جام سے
جب کبھی کسی مست رند کے جام سے شراب اچانک چھلک گئی، تو وہیں حور کی آنکھ پھڑک اٹھی اور وہ پیے بغیر ہی مدہوش ہو کر بہک گئی۔
13
तू हज़ार उज़्र करे मगर हमें रश्क है और ही कुछ 'जिगर' तिरी इज़्तिराब-ए-निगाह से तिरे एहतियात-ए-कलाम से
تو ہزار عذر کرے مگر ہمیں رشک ہے اور ہی کچھ جگرؔ تری اضطراب نگاہ سے ترے احتیاط کلام سے
تم چاہے ہزار بہانے بناؤ لیکن اے جگر، تمہاری نظروں کی بے چینی اور باتوں کے محتاط انداز کو دیکھ کر ہمیں کسی اور ہی بات کا رشک و گمان ہوتا ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.