تری صبح عیش ہے کیا بلا تجھے اے فلک جو ہو حوصلہ — جگر مرادآبادی

تری صبح عیش ہے کیا بلا تجھے اے فلک جو ہو حوصلہ کبھی کر لے آ کے مقابلہ غم ہجر یار کی شام سے

“What great marvel is your morning of bliss? O Heavens, if you have the courage, come compete against the dark evening of separation from the beloved.”

— جگر مرادآبادی

معنی

اے آسمان، تیری عیش و خوشی کی صبح کی کیا حیثیت ہے؟ اگر تجھ میں ہمت ہے تو کبھی آ کر محبوب کی جدائی کے غم کی شام سے مقابلہ کر کے دیکھ۔

تشریح

اس شعر میں شاعر بڑی بے باکی سے آسمان اور تقدیر کو چیلنج کر رہا ہے کہ تیری خوشیوں اور عیش کی صبح کی بھلا کیا بساط ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اگر تجھ میں ہمت ہے تو محبوب کی جدائی کے درد میں ڈوبی ہوئی کسی شام کا سامنا کر کے دکھا۔ دراصل شاعر یہ بتانا چاہتا ہے کہ ہجر کے دکھ کی وسعت اور شدت اتنی گہری ہے کہ زمانے کی بڑی سے بڑی خوشی بھی اس کے سامنے ہیچ ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.