اسے حال و قال سے واسطہ نہ غرض مقام و قیام سے — جگر مرادآبادی

اسے حال و قال سے واسطہ نہ غرض مقام و قیام سے جسے کوئی نسبت خاص ہو ترے حسن برق خرام سے

“They care not for ecstatic states or mystic speech, nor heed any station or resting place, who share a secret kinship with your beauty's lightning-swift grace.”

— جگر مرادآبادی

معنی

جس شخص کو تیرے بجلی کی طرح تیز رفتار حسن سے کوئی خاص تعلق ہو، اسے کسی صوفیانہ کیفیت، گفتگو یا کسی روحانی مقام اور منزل سے کوئی غرض نہیں رہتی۔

تشریح

تصوف کی راہ میں سالک اکثر وجد و حال کی کیفیات، بحث و تکرار اور مختلف روحانی مقامات کی فکر میں لگے رہتے ہیں، مگر شاعر یہاں ایک بہت لطیف راز کھولتا ہے۔ جس دل کو محبوب کے اس جلوۂ حسن سے خاص نسبت ہو جائے جو بجلی کی مانند پلک جھپکتے ہی گزر جاتا ہے، وہ پھر ان تمام رسمی سلسلوں اور منزلوں سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔ حسن کی یہ برق رفتار جھلک عاشق کو ایک ہی لمحے میں اس بے خودی تک پہنچا دیتی ہے جہاں ہر قسم کی قید اور ضابطہ بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

1 / 13Next →