تری چشم مست کو کیا کہوں کہ نظر نظر ہے فسوں فسوں — جگر مرادآبادی

تری چشم مست کو کیا کہوں کہ نظر نظر ہے فسوں فسوں یہ تمام ہوش یہ سب جنوں اسی ایک گردش جام سے

“What can I say of your intoxicated eyes, where every glance weaves pure enchantment? All this reason and all this madness spring from this single turning of the cup.”

— جگر مرادآبادی

معنی

تمہاری نشیلی آنکھوں کے بارے میں کیا کہوں کہ ان کی ہر نگاہ ایک سحر ہے؛ یہ تمام ہوش اور یہ ساری دیوانگی بس شراب کے پیالے کی اسی ایک گردش سے ہے۔

تشریح

شاعر یہاں محبوب کی نشیلی آنکھوں کے سحر کو بیان کرتے ہوئے ان کے دیکھنے کے انداز کو گردشِ جام سے تشبیہ دے رہا ہے۔ محبوب کی ہر نگاہ ایک جادو ہے، جس میں یہ کمال پوشیدہ ہے کہ وہ بیک وقت ہوش و آگہی بھی بخشتی ہے اور بے خودی و جنون میں بھی مبتلا کر دیتی ہے۔ عشق کی اصل خوبصورتی یہی ہے کہ عقل کا سنورنا اور دل کا دیوانہ ہونا، دونوں اسی ایک نظر کے مرہونِ منت ہیں۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.