کیوں کیا رہا جو مقابلہ خطرات گام بہ گام سے — جگر مرادآبادی

کیوں کیا رہا جو مقابلہ خطرات گام بہ گام سے سر بام عشق تمام تک رہ شوق نیم تمام سے

“Why did one brave each looming threat that challenged every step and pace, / From longing's half-completed path to love's consummate, exalted place?”

— جگر مرادآبادی

معنی

شوق کی ادھوری راہ سے لے کر مکمل عشق کی بلندی تک پہنچنے کے سفر میں ہر ہر قدم کے خطرات کا مقابلہ کیوں کیا جاتا رہا؟

تشریح

یہ شعر محبت کے اس کٹھن مگر پُروقار سفر کی عکاسی کرتا ہے جو دل کی ادھوری خواہش سے شروع ہو کر عشق کی مکمل معراج تک پہنچتا ہے۔ شاعر حیرت اور استعجاب سے سوچتا ہے کہ آخر دل نے ہر قدم پر درپیش خطرات کا سامنا کیوں کیا اور اتنی آزمائشیں کیوں جھیلیں۔ دراصل یہ اس پُرجوش جذبے کا اعتراف ہے جو انسان کو خوف سے نکال کر عشق کی بلند ترین چھت پر لا کھڑا کرتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.