وہیں چشم حور پھڑک گئی ابھی پی نہ تھی کہ بہک گئی — جگر مرادآبادی

وہیں چشم حور پھڑک گئی ابھی پی نہ تھی کہ بہک گئی کبھی یک بیک جو چھلک گئی کسی رند مست کے جام سے

“Right there the houri's eye fluttered, intoxicated before taking a single sip; when suddenly a drop spilled over from an ecstatic reveller's cup.”

— جگر مرادآبادی

معنی

جب کبھی کسی مست رند کے جام سے شراب اچانک چھلک گئی، تو وہیں حور کی آنکھ پھڑک اٹھی اور وہ پیے بغیر ہی مدہوش ہو کر بہک گئی۔

تشریح

یہ شعر رندانہ مستی اور سچے عشق کی بے خودی کو بڑے خوبصورت انداز میں پیش کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب کسی مست و بے پروا عاشق کے جام سے شراب کا ایک قطرہ چھلکا، تو اسے دیکھ کر جنت کی حور بھی بنا پیے ہی بہک گئی اور اس کی آنکھ مچل اٹھی۔ اس کا دلکش مفہوم یہ ہے کہ عشقِ حقیقی کی تپش اور دیوانگی اتنی پُراثر ہے کہ اس کا ایک ادنیٰ سا عکس بھی آسمانی ہستیوں کے ہوش اڑا دیتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.