جو اٹھا ہے درد اٹھا کرے کوئی خاک اس سے گلا کرے — جگر مرادآبادی
“Let the pain surge if it will, why ever complain to one, who shuns the mention of beauty, and abhors the very name of love?”
معنی
اگر دل میں درد اٹھا ہے تو اٹھتا رہے، اس شخص سے کوئی کیا گلہ کرے جسے حسن کے ذکر سے ضد ہو اور عشق کے نام ہی سے چڑ ہو۔
تشریح
اس شعر میں شاعر نے دل کے درد کو خاموش خودداری اور وقار کے ساتھ سہنے کا انداز اپنایا ہے۔ اس کا ماننا ہے کہ اپنے کرب کا شکوہ ایسے بے حس شخص سے کرنا بالکل بے معنی ہے جسے محبت کے نام سے چڑ اور حسن کے ذکر سے ضد ہو۔ یہ شعر ایک سچے عاشق کے اس احساس کو بڑی خوبصورتی سے بیان کرتا ہے جو کسی بے پروا سے تسلی مانگنے کے بجائے اپنے زخموں کو خود ہی گلے لگانا بہتر سمجھتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
