مجھے یوں نہ خاک میں تو ملا میں اگرچہ ہوں ترا نقش پا — جگر مرادآبادی
“Do not crush me thus into the dust, though I be merely your footprint; the eternity of your radiant splendor endures through my passion that calls your name.”
معنی
مجھے اس طرح خاک میں مت ملاؤ، اگرچہ میں محض تمہارے قدموں کا نشان ہوں۔ تمہارے جلوے کی بقا میرے اس شوق کی بدولت ہے جو نام بہ نام تمہارا ذکر کرتا ہے۔
تشریح
شاعر اپنے محبوب کے سامنے عاجزی اور خودداری کا ایک انوکھا امتزاج پیش کرتا ہے کہ وہ اگرچہ اس کے قدموں کا ایک مٹتا ہوا نقش ہے، مگر اسے یوں بے دردی سے خاک میں نہ ملایا جائے۔ وہ راز کی یہ بات یاد دلاتا ہے کہ محبوب کے حسن اور جلوے کی بقا اسی عاشق کے دم سے ہے جو والہانہ انداز میں اس کا نام پکارتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر حسن کو سراہنے والی پرستار آنکھ ہی مٹ جائے، تو اس ساری دلکشی اور شان کو دائمی یادگار کون بنائے گا؟
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
