تو ہزار عذر کرے مگر ہمیں رشک ہے اور ہی کچھ جگرؔ — جگر مرادآبادی

تو ہزار عذر کرے مگر ہمیں رشک ہے اور ہی کچھ جگرؔ تری اضطراب نگاہ سے ترے احتیاط کلام سے

“Though you offer a thousand excuses, O Jigar, my jealousy is stirred by something else entirely: by the restlessness of your roving eyes, and the guarded caution of your speech.”

— جگر مرادآبادی

معنی

تم چاہے ہزار بہانے بناؤ لیکن اے جگر، تمہاری نظروں کی بے چینی اور باتوں کے محتاط انداز کو دیکھ کر ہمیں کسی اور ہی بات کا رشک و گمان ہوتا ہے۔

تشریح

جگرؔ مراد آبادی نے اس شعر میں محبت کی اس باریک نفسیات کو خوبصورتی سے پیش کیا ہے جہاں زبان لاکھ پردے ڈالے مگر انداز خود راز فاش کر دیتے ہیں۔ محبوب چاہے چھپانے کے لیے ہزار بہانے اور تاویلیں تراشے، لیکن اس کی آنکھوں کا اضطراب اور ضرورت سے زیادہ سنبھل کر بات کرنا عاشق کی نظروں سے نہیں بچ سکتا۔ یہی غیر معمولی احتیاط عاشق کے دل میں رشک کی دھیمی سی آنچ بھڑکا دیتی ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

← Prev13 / 13