غزل
تجھی سے ابتدا ہے تو ہی اک دن انتہا ہوگا
تجھی سے ابتدا ہے تو ہی اک دن انتہا ہوگا
یہ غزل محبوبِ حقیقی کی ابدیت اور صوفیانہ عقیدت کا حسین مرقع ہے، جس میں خدا ہی کو کائنات کا آغاز اور انجام قرار دیا گیا ہے۔ شاعر نہایت والہانہ انداز اور پختہ یقین کے ساتھ روزِ محشر بھی اپنے معشوق کی خصوصی توجہ اور نگاہِ کرم کا شائق نظر آتا ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
तुझी से इब्तिदा है तू ही इक दिन इंतिहा होगा
सदा-ए-साज़ होगी और न साज़-ए-बे-सदा होगा
تجھی سے ابتدا ہے تو ہی اک دن انتہا ہوگا
صدائے ساز ہوگی اور نہ ساز بے صدا ہوگا
ہر چیز کی شروعات تجھ ہی سے ہے اور ایک دن تجھ ہی پر سب ختم ہوگا؛ تب نہ تو ساز کی آواز رہے گی اور نہ ہی کوئی خاموش ساز بچے گا۔
2
हमें मालूम है हम से सुनो महशर में क्या होगा
सब उस को देखते होंगे वो हम को देखता होगा
ہمیں معلوم ہے ہم سے سنو محشر میں کیا ہوگا
سب اس کو دیکھتے ہوں گے وہ ہم کو دیکھتا ہوگا
ہمیں معلوم ہے، ہم سے سنو کہ محشر میں کیا ہوگا؛ سب لوگ اس کو دیکھ رہے ہوں گے اور وہ ہمیں دیکھ رہا ہوگا۔
3
सर-ए-महशर हम ऐसे आसियों का और क्या होगा
दर-ए-जन्नत न वा होगा दर-ए-रहमत तो वा होगा
سر محشر ہم ایسے عاصیوں کا اور کیا ہوگا
در جنت نہ وا ہوگا در رحمت تو وا ہوگا
قیامت کے دن ہم جیسے گناہ گاروں کا اور کیا انجام ہوگا؟ اگر جنت کا دروازہ نہ بھی کھلا، تو رحمت کا دروازہ تو ضرور کھلے گا۔
4
जहन्नम हो कि जन्नत जो भी होगा फ़ैसला होगा
ये क्या कम है हमारा और उन का सामना होगा
جہنم ہو کہ جنت جو بھی ہوگا فیصلہ ہوگا
یہ کیا کم ہے ہمارا اور ان کا سامنا ہوگا
فیصلہ خواہ جہنم کا ہو یا جنت کا، جو بھی طے ہوگا دیکھا جائے گا؛ کیا یہ کوئی چھوٹی بات ہے کہ کم از کم ہمارا اور ان کا آمنا سامنا ہوگا۔
5
अज़ल हो या अबद दोनों असीर-ए-ज़ुल्फ़-ए-हज़रत हैं
जिधर नज़रें उठाओगे यही इक सिलसिला होगा
ازل ہو یا ابد دونوں اسیر زلف حضرت ہیں
جدھر نظریں اٹھاؤ گے یہی اک سلسلا ہوگا
چاہے ازل ہو یا ابد، دونوں ہی محبوب کی زلفوں کے قیدی ہیں؛ آپ جدھر بھی نگاہ اٹھائیں گے بس یہی ایک سلسلہ دکھائی دے گا۔
6
ये निस्बत इश्क़ की बे-रंग लाए रह नहीं सकती
जो महबूब-ए-ख़ुदा का है वो महबूब-ए-ख़ुदा होगा
یہ نسبت عشق کی بے رنگ لائے رہ نہیں سکتی
جو محبوب خدا کا ہے وہ محبوب خدا ہوگا
عشق کا یہ تعلق اپنا اثر دکھائے بغیر نہیں رہ سکتا؛ جو شخص اللہ کے محبوب کا پیارا ہے، وہ یقیناً اللہ کا بھی محبوب ہوگا۔
7
इसी उम्मीद पर हम तालिबान-ए-दर्द जीते हैं
ख़ोशा दर्द दे कि तेरा और दर्द-ए-ला-दवा होगा
اسی امید پر ہم طالبان درد جیتے ہیں
خوشا درد دے کہ تیرا اور درد لا دوا ہوگا
ہم درد کے طلب گار اسی امید پر جیتے ہیں کہ آپ کا دیا ہوا درد کتنا مبارک ہوگا، کیونکہ وہ آپ کا دیا ہوا ہوگا اور لاعلاج ہوگا۔
8
निगाह-ए-क़हर पर भी जान-ओ-दिल सब खोए बैठा है
निगाह-ए-मेहर आशिक़ पर अगर होगी तो क्या होगा
نگاہ قہر پر بھی جان و دل سب کھوئے بیٹھا ہے
نگاہ مہر عاشق پر اگر ہوگی تو کیا ہوگا
جب عاشق محبوب کی غضب ناک نظر پر ہی اپنا دل و جان کھو بیٹھا ہے، تو اگر اس پر محبت اور مہربانی کی نظر پڑ گئی تو اس کا کیا حال ہوگا۔
9
सियाना भेज देगा हम को महशर से जहन्नम में
मगर जो दिल पे गुज़रेगी वो दिल ही जानता होगा
سیانا بھیج دے گا ہم کو محشر سے جہنم میں
مگر جو دل پہ گزرے گی وہ دل ہی جانتا ہوگا
کوئی دانا ہمیں محشر کے میدان سے جہنم میں بھیج تو دے گا، مگر اس وقت دل پر جو گزرے گی وہ صرف دل ہی جانتا ہوگا۔
10
समझता क्या है तू दीवानगान-ए-इश्क़ को ज़ाहिद
ये हो जाएँगे जिस जानिब उसी जानिब ख़ुदा होगा
سمجھتا کیا ہے تو دیوانگان عشق کو زاہد
یہ ہو جائیں گے جس جانب اسی جانب خدا ہوگا
اے زاہد، تو عشق کے دیوانوں کو کیا سمجھتا ہے؟ یہ جس طرف بھی رخ کریں گے، خدا اسی طرف ہوگا۔
11
'जिगर' का हाथ होगा हश्र में और दामन-ए-हज़रत
शिकायत हो कि शिकवा जो भी होगा बरमला होगा
جگرؔ کا ہاتھ ہوگا حشر میں اور دامن حضرت
شکایت ہو کہ شکوہ جو بھی ہوگا برملا ہوگا
قیامت کے دن جگر کا ہاتھ حضرت کے دامن میں ہوگا؛ کوئی شکوہ ہو یا شکایت، جو کچھ بھی ہوگا وہ سب کے سامنے کھل کر بیان ہوگا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
