جہنم ہو کہ جنت جو بھی ہوگا فیصلہ ہوگا — جگر مرادآبادی
“Be it heaven or hell, whatever judgment is decreed; is it not enough that we shall at last stand face to face?”
معنی
فیصلہ خواہ جہنم کا ہو یا جنت کا، جو بھی طے ہوگا دیکھا جائے گا؛ کیا یہ کوئی چھوٹی بات ہے کہ کم از کم ہمارا اور ان کا آمنا سامنا ہوگا۔
تشریح
اس شعر میں عاشق کا بے پناہ اور بے خوف عشق چھلک رہا ہے، جہاں انجام کی پروا کیے بغیر محبوب کا دیدار پانے کی تڑپ سب پر حاوی ہے۔ شاعر کے لیے جنت کی نعمتیں یا دوزخ کا عذاب کوئی معنی نہیں رکھتا، اصل خوشی تو اس بات کی ہے کہ بالآخر محبوب سے آمنا سامنا ہوگا۔ اپنے محبوب کی ایک جھلک اتنی قیمتی ہے کہ اس کے سامنے روزِ حشر کا ہر خوف ماند پڑ جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
