سمجھتا کیا ہے تو دیوانگان عشق کو زاہد — جگر مرادآبادی

سمجھتا کیا ہے تو دیوانگان عشق کو زاہد یہ ہو جائیں گے جس جانب اسی جانب خدا ہوگا

“What do you take love's mad devotees for, O ascetic? Whichever way they turn, God Himself shall be there.”

— جگر مرادآبادی

معنی

اے زاہد، تو عشق کے دیوانوں کو کیا سمجھتا ہے؟ یہ جس طرف بھی رخ کریں گے، خدا اسی طرف ہوگا۔

تشریح

اس شعر میں شاعر روایتی زاہد کو ٹوکتے ہوئے عشقِ حقیقی کے دیوانوں کی قدر و منزلت یاد دلاتا ہے۔ زاہد خدا کو محض بے جان اصولوں اور رسم و رواج میں ڈھونڈتا ہے، مگر ان مستانوں کا رب سے ایسا پختہ اور مخلص رشتہ ہے کہ وہ جس رخ بھی التفات کریں، خدا کا جلوہ وہیں نظر آتا ہے۔ یہ صوفیانہ اندازِ فکر ہمیں سکھاتا ہے کہ معبود خشک عبادتوں کے بجائے دل کی بے غرض اور پرخلوص چاہت میں ملتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.