اسی امید پر ہم طالبان درد جیتے ہیں — جگر مرادآبادی
“On this sole hope do we, the seekers of sorrow, endure: Blessed be this pain of yours, for it admits no cure.”
معنی
ہم درد کے طلب گار اسی امید پر جیتے ہیں کہ آپ کا دیا ہوا درد کتنا مبارک ہوگا، کیونکہ وہ آپ کا دیا ہوا ہوگا اور لاعلاج ہوگا۔
تشریح
اس خوبصورت شعر میں محبت کا ایک انوکھا فلسفہ بیان کیا گیا ہے، جہاں عاشق اپنے درد کے ختم ہونے کی دعا نہیں مانگتا بلکہ اسی کو جینے کا سہارا بناتا ہے۔ عشق کی راہ کے مسافر محبوب کے دیے ہوئے دکھ کو کسی عظیم نعمت کی طرح قبول کرتے ہیں اور تمنا کرتے ہیں کہ یہ زخم لاعلاج ہی رہے۔ دراصل یہ لاعلاج درد ہی وہ نازک رشتہ ہے جو عاشق کو زندگی بھر اپنے محبوب کے احساس سے جوڑے رکھتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
