نگاہ قہر پر بھی جان و دل سب کھوئے بیٹھا ہے — جگر مرادآبادی

نگاہ قہر پر بھی جان و دل سب کھوئے بیٹھا ہے نگاہ مہر عاشق پر اگر ہوگی تو کیا ہوگا

“Even at a glance of wrath, he sits having surrendered heart and soul; if a gaze of grace should fall upon the lover, what then will become of him?”

— جگر مرادآبادی

معنی

جب عاشق محبوب کی غضب ناک نظر پر ہی اپنا دل و جان کھو بیٹھا ہے، تو اگر اس پر محبت اور مہربانی کی نظر پڑ گئی تو اس کا کیا حال ہوگا۔

تشریح

اس شعر میں عشق کی وارفتگی اور بے خودی کا نہایت دلکش انداز بیان ملتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب محبوب کی خشمگیں اور غضب آلود نظر ہی دل و جان لوٹ لینے کے لیے کافی ہے، تو اگر کبھی اس نے لطف و کرم کی نگاہ ڈال دی تو عاشق کا کیا حشر ہوگا۔ یعنی ستم میں اگر یہ عالمِ مدہوشی ہے تو عنایت و محبت کی تاب عاشق کا وجود شاید برداشت ہی نہ کر سکے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.