ازل ہو یا ابد دونوں اسیر زلف حضرت ہیں — جگر مرادآبادی
“Be it eternity's dawn or its endless eve, both are held captive in the Beloved's locks; wherever you turn your gaze, this unbroken chain is all you shall see.”
معنی
چاہے ازل ہو یا ابد، دونوں ہی محبوب کی زلفوں کے قیدی ہیں؛ آپ جدھر بھی نگاہ اٹھائیں گے بس یہی ایک سلسلہ دکھائی دے گا۔
تشریح
اس شعر میں شاعر نے وقت کے دونوں کناروں، یعنی آغاز (ازل) اور انجام (ابد) کو محبوب کی لہراتی زلفوں کا اسیر بنا دیا ہے۔ لفظ 'سلسلہ' یہاں کمال کی معنویت رکھتا ہے، جو زلف کی گھنی زنجیر بھی ہے اور کائنات و وقت کا لامتناہی تسلسل بھی۔ دراصل یہ ایک گہرا صوفیانہ احساس ہے کہ نظر جہاں تک بھی اٹھے، ہر دور اور ہر موڑ پر انسان کو اسی محبوبِ حقیقی کے حسن اور جلووں کی گرفت نظر آتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
