تجھی سے ابتدا ہے تو ہی اک دن انتہا ہوگا — جگر مرادآبادی
“From You is the beginning, and in You one day all things shall end; no music from the lute will stay, nor any soundless instrument remain.”
معنی
ہر چیز کی شروعات تجھ ہی سے ہے اور ایک دن تجھ ہی پر سب ختم ہوگا؛ تب نہ تو ساز کی آواز رہے گی اور نہ ہی کوئی خاموش ساز بچے گا۔
تشریح
اس شعر میں تصوف کا ایک نہایت پرتاثیر نکتہ سمویا گیا ہے کہ کائنات کی ابتدا بھی ذاتِ باری تعالیٰ ہے اور اس کا آخری انجام بھی وہی ہے۔ شاعر نے دنیا اور اس کے تمام مظاہر کو ساز اور اس کی نغمگی کی تمثیل میں پرویا ہے کہ جب یہ بزم سمیٹ دی جائے گی تو نہ آواز باقی رہے گی اور نہ ساز کا وجود۔ آخرکار ساری کائنات فنا ہو کر اسی ایک ازلی اور ابدی ذات میں گم ہو جائے گی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
