جگرؔ کا ہاتھ ہوگا حشر میں اور دامن حضرت — جگر مرادآبادی

جگرؔ کا ہاتھ ہوگا حشر میں اور دامن حضرت شکایت ہو کہ شکوہ جو بھی ہوگا برملا ہوگا

“On Judgment Day, Jigar's hand shall clasp the Prophet's hem; be it grievance or complaint, whatever is spoken will be declared in plain sight.”

— جگر مرادآبادی

معنی

قیامت کے دن جگر کا ہاتھ حضرت کے دامن میں ہوگا؛ کوئی شکوہ ہو یا شکایت، جو کچھ بھی ہوگا وہ سب کے سامنے کھل کر بیان ہوگا۔

تشریح

جگرؔ نے اس شعر میں روزِ محشر کی ہیبت کو عشق اور ناز کے حسین جذبے میں بدل دیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن ان کا ہاتھ سرکارِ دو عالمؐ کے دامنِ رحمت میں ہوگا، جو مغفرت اور پناہ کا سب سے بڑا سہارا ہے۔ یہاں ایک سچے عاشق کا بے پناہ مان اور توکل جھلکتا ہے، جہاں دل کا سارا درد اور گلہ کسی خوف کے بغیر اپنے محبوب کے روبرو کھل کر بیان کیا جائے گا۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

← Prev11 / 11