سر محشر ہم ایسے عاصیوں کا اور کیا ہوگا — جگر مرادآبادی

سر محشر ہم ایسے عاصیوں کا اور کیا ہوگا در جنت نہ وا ہوگا در رحمت تو وا ہوگا

“On the Day of Reckoning, what else could become of sinners such as we? If the gates of Heaven do not open, the door of Mercy surely will.”

— جگر مرادآبادی

معنی

قیامت کے دن ہم جیسے گناہ گاروں کا اور کیا انجام ہوگا؟ اگر جنت کا دروازہ نہ بھی کھلا، تو رحمت کا دروازہ تو ضرور کھلے گا۔

تشریح

یہ شعر روزِ جزا کے خوف پر الٰہی رحمت کی فتح کا بڑا خوبصورت اور پُرامید بیان ہے۔ شاعر عاجزی کے ساتھ اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اگر ہمارے اعمال کے سبب جنت کا دروازہ نہ بھی کھلا، تو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ خدا کی بخشش اور رحمت کی وسعت اتنی بے کراں ہے کہ اس کا دروازہ خطاکاروں کے لیے ہر حال میں کھلا ہی رہے گا۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.