غزل

آنکھوں کا تھا قصور نہ دل کا قصور تھا

آنکھوں کا تھا قصور نہ دل کا قصور تھا
جگر مرادآبادی· Ghazal· 12 shers· radif: था

یہ غزل خود احتسابی اور گہری ندامت کی عکاس ہے، جس میں انسان کے زوال اور المیے کا سبب دل یا آنکھیں نہیں بلکہ اس کی اپنی انا اور غرور بنتا ہے۔ اس کے اشعار میں امید کے اندھیرے میں بدل جانے اور دکھوں کے گہرے سائے کا نہایت پردرد بیان ملتا ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
आँखों का था क़ुसूर न दिल का क़ुसूर था आया जो मेरे सामने मेरा ग़ुरूर था
آنکھوں کا تھا قصور نہ دل کا قصور تھا آیا جو میرے سامنے میرا غرور تھا
نہ آنکھوں کی کوئی غلطی تھی اور نہ ہی دل کا کوئی قصور تھا، جو میرے سامنے آیا وہ دراصل میرا اپنا ہی غرور تھا۔
2
तारीक मिस्ल-ए-आह जो आँखों का नूर था क्या सुब्ह ही से शाम-ए-बला का ज़ुहूर था
تاریک مثل آہ جو آنکھوں کا نور تھا کیا صبح ہی سے شام بلا کا ظہور تھا
جو آنکھوں کا نور تھا وہ ایک آہ کی طرح تاریک ہو گیا؛ کیا صبح ہی کے وقت سے مصیبت کی شام ظاہر ہو گئی تھی؟
3
वो थे न मुझ से दूर न मैं उन से दूर था आता न था नज़र तो नज़र का क़ुसूर था
وہ تھے نہ مجھ سے دور نہ میں ان سے دور تھا آتا نہ تھا نظر تو نظر کا قصور تھا
نہ وہ مجھ سے دور تھے اور نہ میں ان سے دور تھا، اگر وہ نظر نہیں آتے تھے تو یہ میری اپنی ہی نظر کا قصور تھا۔
4
हर वक़्त इक ख़ुमार था हर दम सुरूर था बोतल बग़ल में थी कि दिल-ए-ना-सुबूर था
ہر وقت اک خمار تھا ہر دم سرور تھا بوتل بغل میں تھی کہ دل ناصبور تھا
ہر وقت ایک نشہ اور ہر لمحہ ایک سرور طاری رہتا تھا، معلوم نہیں کہ بغل میں شراب کی بوتل تھی یا یہ میرا بے چین دل تھا۔
5
कोई तो दर्दमंद-ए-दिल-ए-ना-सुबूर था माना कि तुम न थे कोई तुम सा ज़रूर था
کوئی تو دردمند دل ناصبور تھا مانا کہ تم نہ تھے کوئی تم سا ضرور تھا
اس بے چین دل کا درد بانٹنے والا کوئی تو ضرور تھا، مانا کہ وہ تم نہیں تھے مگر تمہارے جیسا ہی کوئی ضرور تھا۔
6
लगते ही ठेस टूट गया साज़-ए-आरज़ू मिलते ही आँख शीशा-ए-दिल चूर चूर था
لگتے ہی ٹھیس ٹوٹ گیا ساز آرزو ملتے ہی آنکھ شیشۂ دل چور چور تھا
ذرا سی ٹھیس لگتے ہی تمناؤں کا ساز ٹوٹ گیا اور آنکھ ملتے ہی دل کا شیشہ چکنا چور ہو گیا۔
7
ऐसा कहाँ बहार में रंगीनियों का जोश शामिल किसी का ख़ून-ए-तमन्ना ज़रूर था
ایسا کہاں بہار میں رنگینیوں کا جوش شامل کسی کا خون تمنا ضرور تھا
بہار میں رنگینیوں کا اتنا جوش خود سے نہیں ہو سکتا، اس میں یقیناً کسی کی تمناؤں کا خون شامل رہا ہوگا۔
8
साक़ी की चश्म-ए-मस्त का क्या कीजिए बयान इतना सुरूर था कि मुझे भी सुरूर था
ساقی کی چشم مست کا کیا کیجیے بیان اتنا سرور تھا کہ مجھے بھی سرور تھا
ساقی کی مدہوش آنکھوں کا کیا بیان کیا جائے؟ ان میں اتنا نشہ تھا کہ میں بھی مست و سرور ہو گیا۔
9
पलटी जो रास्ते ही से ऐ आह-ए-ना-मुराद ये तो बता कि बाब-ए-असर कितनी दूर था
پلٹی جو راستے ہی سے اے آہ نامراد یہ تو بتا کہ باب اثر کتنی دور تھا
اے ناکام آہ، تو جو راستے سے ہی واپس لوٹ آئی، ذرا یہ تو بتا کہ قبولیت کا دروازہ کتنی دور تھا۔
10
जिस दिल को तुम ने लुत्फ़ से अपना बना लिया उस दिल में इक छुपा हुआ नश्तर ज़रूर था
جس دل کو تم نے لطف سے اپنا بنا لیا اس دل میں اک چھپا ہوا نشتر ضرور تھا
جس دل کو تم نے اپنی مہربانی اور لطف سے اپنا بنا لیا، اس دل کے اندر یقیناً ایک چھپا ہوا نشتر ضرور تھا۔
11
उस चश्म-ए-मय-फ़रोश से कोई न बच सका सब को ब-क़दर-ए-हौसला-ए-दिल सुरूर था
اس چشم مے فروش سے کوئی نہ بچ سکا سب کو بقدر حوصلۂ دل سرور تھا
شراب بیچنے والی ان آنکھوں سے کوئی نہ بچ سکا، اور ہر شخص کو اپنے دل کے حوصلے اور ظرف کے مطابق ہی نشہ حاصل ہوا۔
12
देखा था कल 'जिगर' को सर-ए-राह-ए-मय-कदा इस दर्जा पी गया था कि नश्शे में चूर था
دیکھا تھا کل جگرؔ کو سر راہ مے کدہ اس درجہ پی گیا تھا کہ نشے میں چور تھا
کل میں نے میخانے کے راستے پر جگرؔ کو دیکھا تھا؛ وہ اس حد تک پی گیا تھا کہ نشے میں بالکل چور تھا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

آنکھوں کا تھا قصور نہ دل کا قصور تھا | Sukhan AI