“None could escape the spell of those wine-dispensing eyes; each found intoxication in measure of their heart's capacity.”
شراب بیچنے والی ان آنکھوں سے کوئی نہ بچ سکا، اور ہر شخص کو اپنے دل کے حوصلے اور ظرف کے مطابق ہی نشہ حاصل ہوا۔
اس شعر میں محبوب کی دلکش آنکھوں کو ایک مے فروش سے تشبیہ دی گئی ہے، جس کی ایک ہی نظر کے خمار سے کوئی محفوظ نہ رہ سکا۔ لیکن خوبصورت نکتہ یہ ہے کہ اس نگاہ کا اثر سب پر یکساں نہیں ہوتا، بلکہ ہر شخص کو اس کے دل کی وسعت اور ظرف کے مطابق سرور ملتا ہے۔ شاعر کہنا چاہتے ہیں کہ عشق اور حسن کا فیض تو ہر ایک پر برستا ہے، مگر اسے سمیٹنا اور محسوس کرنا خود انسان کے اپنے حوصلے پر منحصر ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
