“Turning back halfway along the road, O unfulfilled sigh, tell me at least: how far was the door of answered prayer?”
اے ناکام آہ، تو جو راستے سے ہی واپس لوٹ آئی، ذرا یہ تو بتا کہ قبولیت کا دروازہ کتنی دور تھا۔
شاعر یہاں اپنی ناکام آہ کو ایک تھکے ہوئے مسافر کے روپ میں دیکھتا ہے جو فریاد کی قبولیت کی چوکھٹ تک پہنچے بغیر ہی بیچ راستے سے پلٹ آئی۔ 'بابِ اثر' وہ دروازہ ہے جہاں دعائیں سنی جاتی ہیں، اور عاشق کے دل میں یہ خلش ہے کہ آخر وہ منزل کتنی دور رہ گئی تھی۔ یہ شعر صرف ناامیدی کا نہیں، بلکہ اس پچھتاوے کا دکھ بیان کرتا ہے جو انسان کو یہ سوچ کر گھیر لیتا ہے کہ شاید وہ مراد ملنے کے بالکل قریب پہنچ کر واپس آ گیا تھا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
