“Neither were they far from me, nor far from them was I; if they remained unseen, the fault belonged to my own eye.”
نہ وہ مجھ سے دور تھے اور نہ میں ان سے دور تھا، اگر وہ نظر نہیں آتے تھے تو یہ میری اپنی ہی نظر کا قصور تھا۔
یہ شعر قربت اور بصیرت کی ایک نہایت دلکش کیفیت کو بیان کرتا ہے، جہاں محبوب—چاہے وہ مجازی ہو یا حقیقی—کبھی ہم سے دور تھا ہی نہیں۔ یہ دوری دراصل ہماری اپنی نگاہ کی کوتاہی اور شعور کی خامی کا نتیجہ تھی، جس نے قربت کو بھی دوری سمجھ لیا۔ یہ شعر انسان کو ایک خوبصورت احساس دلاتا ہے کہ جس سچائی کو ہم باہر ڈھونڈتے رہے، وہ ہمیشہ سے ہمارے سنگ تھی، بس ہماری ہی نظر پر پردہ پڑا ہوا تھا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
