“How can one ever describe the intoxicating eyes of the cupbearer? Such was the ecstasy in that gaze, that I, too, was intoxicated.”
ساقی کی مدہوش آنکھوں کا کیا بیان کیا جائے؟ ان میں اتنا نشہ تھا کہ میں بھی مست و سرور ہو گیا۔
اس دلکش شعر میں شاعر نے ساقی کی مست آنکھوں کا سحر انگیز عالم بیان کیا ہے۔ یہاں مے نوشی یا جام کی کوئی حاجت ہی نہیں رہی، کیونکہ ساقی کی آنکھوں میں سرور اور خمار کی ایسی کیفیت تھی کہ اس کی ایک نگاہ نے دیکھنے والے کو بھی اسی بے خودی میں مبتلا کر دیا۔ یہ شعر دراصل اس روحانی اور قلبی کیفیت کی عکاسی کرتا ہے جہاں محبوب کی مستی عاشق کے وجود میں بغیر کسی واسطے کے اتر جاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
