“The heart you claimed as your own with tender grace and art, must surely have concealed a hidden lancet in its heart.”
جس دل کو تم نے اپنی مہربانی اور لطف سے اپنا بنا لیا، اس دل کے اندر یقیناً ایک چھپا ہوا نشتر ضرور تھا۔
یہ شعر محبت کے ایک دلدوز تضاد کو بیان کرتا ہے، جہاں بظاہر ملنے والی مہربانی کے پیچھے ہی سب سے گہرا دکھ چھپا ہوتا ہے۔ محبوب نے جس دل کو اپنی نوازش اور عنایت سے اپنا بنایا، درحقیقت اسی دل کے اندر ایک ان دیکھا نشتر بھی موجود تھا جس نے چپکے سے روح کو زخمی کر دیا۔ شاعر کا اشارہ اس المیے کی طرف ہے کہ کبھی کبھی سب سے زیادہ سکون دینے والا تعلق ہی انسان کے لیے سب سے بڑی تکلیف کا سبب بن جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
