“Neither the eyes were to blame, nor was the heart at fault; that which stood before me was merely my own pride.”
نہ آنکھوں کی کوئی غلطی تھی اور نہ ہی دل کا کوئی قصور تھا، جو میرے سامنے آیا وہ دراصل میرا اپنا ہی غرور تھا۔
عام طور پر ہم عشق میں لٹنے یا ٹھوکر کھانے پر نظر کے بہکاوے یا دل کی نادانی کو دوش دیتے ہیں، لیکن شاعر یہاں ایک گہرے ادراک کا اظہار کرتا ہے۔ اسے احساس ہوتا ہے کہ درحقیقت راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ کوئی غیر نہیں، بلکہ اس کی اپنی انا اور تکبر تھا۔ یہ شعر انسان کے اندر جھانکنے کا وہ آئینہ ہے جو بتاتا ہے کہ ہمارا سب سے بڑا حریف اکثر ہمارا اپنا ہی غرور ہوتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
