“Where could spring on its own possess such vibrant, passionate hues? Surely the blood of someone's slain desire was mingled too.”
بہار میں رنگینیوں کا اتنا جوش خود سے نہیں ہو سکتا، اس میں یقیناً کسی کی تمناؤں کا خون شامل رہا ہوگا۔
شاعر بہار کے شوخ رنگوں اور گلابوں کی گہری لالی کو دیکھ کر حیرت میں ہے کہ موسمِ گل میں خود بخود اتنا جوش و خروش کہاں سے آ گیا۔ اس کا دل گواہی دیتا ہے کہ چمن کی اس بے پناہ رعنائی میں کسی دل جلے کی قربان شدہ حسرتوں اور تمناؤں کا لہو شامل ہے۔ یہ شعر حسن اور ملال کے انوکھے رشتے کو بیان کرتا ہے کہ دنیا کے دلکش رنگ دراصل کسی کے خاموش درد کی مرہونِ منت ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
