دیکھا تھا کل جگرؔ کو سر راہ مے کدہ اس درجہ پی گیا تھا کہ نشے میں چور تھا

“Yesterday I caught sight of Jigar upon the tavern's road; he had drunk to such excess that he was utterly shattered in intoxication.”

— جگر مرادآبادی
معنی

کل میں نے میخانے کے راستے پر جگرؔ کو دیکھا تھا؛ وہ اس حد تک پی گیا تھا کہ نشے میں بالکل چور تھا۔

تشریح

اس شعر میں جگرؔ صاحب نے خود کو ایک راہگیر کی نظر سے مے خانے کے راستے پر بے خودی اور مدہوشی کے عالم میں دکھایا ہے۔ بظاہر یہ کثرتِ مے نوشی کا ذکر ہے، لیکن حقیقت میں یہ عشق کے غم اور دنیا کی تلخیوں میں خود کو یکسر فراموش کر دینے کی تصویر ہے۔ شاعر نے بغیر کسی ریاکاری کے، اپنے درد اور خودسپردگی کو نہایت بے تکلفی سے آشکار کر دیا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

← Prev12 / 12